Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
281 - 1040
حدیث نمبر281
روایت ہے ابو امامہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جناب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک غلام دیا، تو فرمایا اسے مارنا مت ۱؎ کیونکہ مجھے نمازیوں کی مار سے منع کیا گیا ہے۲؎ اور میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے ۳؎ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں
شرح
۱؎ یعنی اگر تمہارا کوئی ذاتی قصور کرے تو حتی الامکان اسے نہ مارنا معاف کردینا یا جھڑک دینا۔

۲؎ یعنی مجھے میرے رب نے اپنی ذاتی معاملات میں نمازی کو مارنے سے منع فرمادیا ہے اس مار سے مراد شرعی حدود و تعزیرات کے سواء کی مار ہے،نمازی سے شرعی سزائیں معاف نہ ہوں گی تہمت کے اسی کوڑے مارے ہی جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

۳؎ مطلب یہ ہے کہ ان شاءاﷲ نمازی آدمی کو نماز ہی درست کردیتی ہے اسے مار پیٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ"اگر کسی وقت اتفاقًا اس سے کوئی قصور ہوجائے تو اسے مارتے کیوں ہو وہ ان شاءاﷲ نماز کی برکت سے ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ حدیث ہم گنہگاروں کے لیے بہت ہی امید افزا ہے، اﷲ تعالٰی نماز کی پابندی اور جماعت کی توفیق دے تو ان شاءاﷲ دنیا کی مار سے بھی بچیں گے اور رب تعالٰی اور اسکے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم آخرت کی سزا سے بھی بچائیں گے،جب یہاں شفاعت ہورہی ہے تو وہاں بھی شفاعت ہوگی۔شعر

جو یہاں عیب کسی کے نہیں کھلنے دیتے		کب وہ چاہیں گے میری حشرمیں رسوائی ہو
Flag Counter