۱؎ حتف ح کے فتح ت اور ف کے سکون سے بمعنی موت و ہلاکت و سکرات موت،اسی سے ہے حتف انف یعنی بستر پر پڑ کر مرنا اہل عرب کا خیال تھا کہ زخمی کے زخم سے جان نکلتی ہے اور غیر زخمی کی ناک سے نکلتی ہے اسی لیے وہ قتل کے مقابل موت کو حتف انف کہتے تھے یعنی جس شخص میں یہ تین صفات جمع ہوں اﷲ تعالٰی اس کی جان کنی آسان فرمادے گا۔
۲؎ شروع سے ہی بغیر سزا دیئے،ورنہ ہر مؤمن خواہ کتنا ہی گنہگار ہو آخر جنت میں ضرور جائے گا۔
۳؎ کمزور خواہ جسمانی حیثیت سے کمزور ہو یا مالی حیثیت سے یا عقل سے کمزور جیسے بچے اور دیوانے بے وقوف ان پر مہربانی کرو، یوں ہی ماں باپ کی خدمت بھی کرو اور ان کی ناراضی سے خوف بھی۔ شفقت شفق سے بنا بمعنی خوف و ڈر،شفقت اور محبت یا مہربانی کو کہتے ہیں جس میں ڈر بھی ہو،مملوک میں لونڈی غلام جانور وغیرہ سب داخل ہیں یہ الفاظ بہت ہی جامع ہیں،احسان سے مراد حقوق سے زیادہ ان پر مہربانی کرنا۔