۱؎ اس تفریق کی بہت صورتیں ہیں اور سب ممنوع۔لونڈی اپنے پاس رکھنا اس کا چھوٹا بچہ دوسرے کے ہاتھ فروخت کر دینا،دوسرے کو ہبہ کردینا،ماں کو اور جگہ رکھنا بچہ کو اور جگہ رکھنا،یہ حکم ماں بیٹے،باپ بیٹے،دادا پوتے وغیرہ سب کو شامل ہے مگر یہ حکم چھوٹے بچہ کے لیے ہے جو بغیر ماں نہ رہ سکے اور اس کے بغیر ماں بے چین رہے بڑے بچہ کی تفریق جائز ہے۔ امام شافعی کے ہاں سات سال کا بچہ بڑا ہےامام اوزاعی کے ہاں جب بچہ پیشاب پاخانہ سونا کھانا علیحدہ کرسکے،ہمارے امام اعظم کے ہاں بلوغ کی عمر کو پہنچ جانا ہے،بعض علماء تو فرماتے ہیں کہ جانوروں پر بھی یہ ظلم نہ کرو کہ بہت چھوٹے بچہ کو اس کی ماں سے جدا نہ کرو۔
۲؎ یعنی قیامت کے دن جامع المتفرقین ہے جس دن سارے اگلے پچھلے جمع ہوں گے اور خویش و اقارب کی شفاعت کام آئے گی مگر ایسا ظالم آدمی اس دن اپنے عزیزوں کی ملاقات اور ان کی شفاعت سے محروم ہوگا۔خیال رہے کہ قیامت کے اول دن میں تو کوئی کسی کو نہ پوچھے گا،بھائی بھائی سے بھاگے گا اور آخری حالات اس کے برعکس ہوں گے،وہاں ہر دوست اپنے دوست کو یاد کرکے امداد کرے گا اسی لیے قیامت کا نام یوم حشر بھی ہے اور یوم التناد بھی۔
۳؎ یہ حدیث احمد و حاکم نے بھی نقل فرمائی،طبرانی نے حضرت معقل ابن یسار سے یوں روایت کی من فرق فلیس منا جو ماں بچہ میں جدائی کرے وہ ہماری جماعت سے نہیں۔(مرقات)