| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے تو وہ اﷲ کا ذکر کردے تو اپنے ہاتھ اٹھالو۱؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)لیکن ان کے نزدیک یوں ہےکہ اپنا ہاتھ روک لو بجائے اس کے کہ اپنے ہاتھ اُٹھالو ۲؎
شرح
۱؎ یعنی اگر تم اپنی نافرمانی یا تعلیم و تربیت کے لیے اپنے غلام،نوکر،شاگرد،بیٹے بیوی کو مارو اور وہ کہہ دے کہ اﷲ کو ضامن کرتا ہوں اب یہ قصور نہ کروں گا اور اب خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو تو تم اﷲ کے نام کا ادب کرتے ہو چھوڑ دو،شرعی حدود اس حکم سے خارج ہیں وہ تو مجرم پر پوری جاری کی جائیں گی۔ ۲؎ ابوداؤد نے بروایت حضرت ابوہریرہ اس حدیث میں یہ زیادہ کیا کہ چہرہ پر نہ مارو اس کی وجہ ظاہر ہے کہ چہرہ تمام اعضاء سے اشرف ہے اسے نہ بگاڑو۔