۱؎ ظاہر یہ ہے کہ الصلوۃ منصوب ہے الزموا پوشیدہ فعل کا مفعول بہ یعنی نماز کی پابندی و حفاظت کرو مرتے دم تک نہ چھوڑو۔معلوم ہوا کہ نماز بڑا ہی اہم فریضہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خصوصیت سے اس کی وصیت فرمائی،سعادت مند اولاد باپ کی وصیت سختی سے پوری کرتی ہے۔سعادت مند امتی وہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اس وصیت پر سختی سے پابندی کرے،اﷲ تعالٰی توفیق دے،مؤمن مرے بعد قبر میں بھی نماز پڑھتا ہے۔
۲؎ یعنی اپنے لونڈی غلاموں سے اچھا برتاؤ کرو ان کے حقوق ادادکرو،بعض شارحین نے فرمایا کہ ماملکت ایمانکم سے مراد مملوکہ مال ہیں یعنی اپنے مملوکہ مالوں کا حساب رکھو ان کی زکوۃ،قربانی،فطرہ وغیرہ دیتے رہو،نماز بدنی عبادت ہے زکوۃ مالی عبادت،مگر پہلے معنے زیادہ موزوں ہیں کہ اس سے لونڈی غلاموں پر مہربانی مراد ہے،ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد تمام مملوکہ جاندار ہوں،لونڈی غلام،جانور،وغیرہ یہ حدیث بہت جامع ہے ۔بعض شارحین نے فرمایا کہ صلوۃ سے تمام حقوق ادا کرو حتی کہ رعایا،شاگرد،مرید،نوکر چاکر،لونڈی غلام،جانور سب پر ہی مہربانی کرو اور سب کے حقوق ادا کرو۔۳؎ جامع صغیر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ وصیت دوبار فرمائی یعنی الصلوۃ اور ماملکت ایمانکم دوبار ارشاد کئے تاکید کے لیے،یہ حدیث احمد،نسائی،ابن ماجہ،ابن حبان،نے مختلف راویوں سے روایت کی،چنانچہ احمد و ابن ماجہ نے حضرت ام سلمہ سے،طبرانی نے ابن عمر سے،ابن حبان نے حضرت انس سے رضی اللہ عنہم۔(مرقات)