۱؎ یہاں فقیر بمعنی مسکین ہے یعنی میرے پاس کچھ نہیں۔احناف کے ہاں فقیر وہ ہے جس کے پاس مال ہو مگر نصاب سے کم کہ اس پر نہ زکوۃ واجب ہو نہ فطرہ نہ قربانی مگر مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو،امام شافعی کے ہاں اس کے برعکس مگر ان دونوں اماموں کے ہاں ہر ایک لفظ دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتا ہے،یہاں فقیر بجائے مسکین استعمال ہوا۔
۲؎ جس کے پاس وراثت سے ملا ہوا مال ہے اور وہ میرا عزیز قرابتی ہے میری پرورش میں ہے میں اس کا قیم و منتظم ہوں۔
۳؎ یعنی چونکہ تم اس کی خدمت و پرورش کرتے ہو اور نادار ہو اس لیے اس کے مال سے اپنا حق الخدمت لے سکتے ہو مگر تین قسم کی پابندی سے،ایک یہ کہ ضرورت سے زیادہ مال نہ لو۔دوسرے یہ کہ ضرورت سے پہلے مال نہ لو ضرورت کے وقت لو،یا ولا مبادر کے معنے یہ ہیں کہ اس یتیم کے بلوغ سے پہلے اس کا مال ختم کردینے کی کوشش نہ کرو رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَاۡکُلُوۡہَاۤ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنۡ یَّکْبَرُوۡا"۔تیسرے یہ کہ صرف وقتی طور پر استعمال کرو،آئندہ کے لیے جمع نہ کرو،اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کا ولی اگر مسکین غریب ہو تو اس کے مال سے بقدر ضرورت استعمال کرے اور بلاضرورت ہاتھ نہ لگائے۔