Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
272 - 1040
حدیث نمبر272
روایت ہے انہی سے  وہ اپنے والد سے  وہ ان کے دادا سے راوی کہ ایک شخص نبی کریم صلی علیہ وسلم  کی خدمت میں آیا  بولا میں محتاج ہوں ۱؎  میرے پاس کچھ  نہیں  اور میرے پاس ایک یتیم ہے۲؎  تو فرمایا اپنے یتیم کے مال سے  کھاؤ نہ فضول خرچی کرکے نہ جلد ی کر کے اور نہ مال جمع کرتے ہوئے ۳؎  (ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یہاں فقیر بمعنی مسکین ہے یعنی میرے پاس کچھ نہیں۔احناف کے ہاں فقیر وہ ہے جس کے پاس مال ہو مگر نصاب سے کم کہ اس پر نہ زکوۃ واجب ہو نہ فطرہ نہ قربانی مگر مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو،امام شافعی کے ہاں اس کے برعکس مگر ان دونوں اماموں کے ہاں ہر ایک لفظ دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتا ہے،یہاں فقیر بجائے مسکین استعمال ہوا۔

۲؎ جس کے پاس وراثت سے ملا ہوا مال ہے اور وہ میرا عزیز قرابتی ہے میری پرورش میں ہے میں اس کا قیم و منتظم ہوں۔

۳؎ یعنی چونکہ تم اس کی خدمت و پرورش کرتے ہو اور نادار ہو اس لیے اس کے مال سے اپنا حق الخدمت لے سکتے ہو مگر تین قسم کی پابندی سے،ایک یہ کہ ضرورت سے زیادہ مال نہ لو۔دوسرے یہ کہ ضرورت سے پہلے مال نہ لو ضرورت کے وقت لو،یا ولا مبادر کے معنے یہ ہیں کہ اس یتیم کے بلوغ سے پہلے اس کا مال ختم کردینے کی کوشش نہ کرو رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَاۡکُلُوۡہَاۤ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنۡ یَّکْبَرُوۡا"۔تیسرے یہ کہ صرف وقتی طور پر استعمال کرو،آئندہ کے لیے جمع نہ کرو،اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کا ولی اگر مسکین غریب ہو تو اس کے مال سے بقدر ضرورت استعمال کرے اور بلاضرورت ہاتھ نہ لگائے۔
Flag Counter