روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا بولا کہ میرے پاس مال ہے اور میرے والد میرے مال کے محتاج ہیں۱؎ فرمایا تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کے ہیں ۲؎ یقینًا تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی سے ہے،اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ ۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)۴؎
شرح
۱؎ تو میرا مال میرا والد استعمال کرسکتا ہے یا نہیں خصوصًا حاجت کے وقت۔ ۲؎ ابن ماجہ نے حضرت جابر سے اور طبرانی نے حضرت سمرہ وابن مسعود سے مرفوعًا یوں روایت فرمائی انت ومالك لابیك مطلب ایک ہی ہے یعنی تم بھی اپنے باپ کے ہو تمہارا مال بھی لہذا تمہارے باپ کو حق ہے کہ تم سے جانی خدمت بھی لیں اور مالی خدمت بھی۔ ۳؎ اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے:غنی اولاد پر فقیر ماں باپ کا خرچہ واجب ہے اور اگر ماں باپ غنی ہوں انہیں اولاد کے مال کی ضرورت نہ ہو تو ہدایا دیتے رہنا مستحب ہے،اگر باپ اولاد کے مال کی چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہ کٹے گا،اگر باپ اپنے بیٹے کی لونڈی سے صحبت کرے تو اس پر حد زنا نہیں اگر باپ اپنے بیٹے کو قتل کردے تو اس پر قصاص نہیں۔خیال رہے کہ بچہ کو ماں خون پلا کر پالتی ہے باپ مال کھلا کر یعنی جانی خدمت ماں کرتی ہے اور مالی خدمت باپ،اسی وجہ سے ارشاد ہوا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہیں اور یہاں ارشاد ہوا کہ تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے جیسی پرورش ویسا اس کا شکریہ ۔یہ ہے اس سرکار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کا انصاف۔خیال رہے کہ بوقت حاجت ہر ذی رحم قرابت دار کا نفقہ مالدار عزیز پر واجب ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے: "وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیۡنَ وَ ابْنَ السَّبِیۡلِ"یہ ہی احناف کا مذہب ہے امام شافعی کے ہاں سوائے ماں باپ کے کسی عزیز کا خرچہ واجب نہیں،امام احمد کے ہاں ہر محتاج عزیز کا خرچہ واجب ہے ذی رحم ہو یا نہ ہو ان تمام مسائل کے دلائل کتب فقہ یا مرقات میں اسی جگہ ملاحظہ فرمایئے۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بچہ کا نسب باپ سے ہے نہ کہ ماں سے۔ ۴؎ یہ حدیث صحابہ کرام کی ایک جماعت نے مختلف الفاظ سے نقل فرمائی جو مختلف محدثین نے مختلف اسنادوں سے بیان کئے، چنانچہ ترمذی و ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی کہ بہترین روزی وہ ہے جو انسان اپنی کمائی سے کھائے اور انسان کی اولاد اس کی کمائی سے ہے،ترمذی نے اسے حسن فرمایا۔(مرقات)