| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن مسعود انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی ۲؎ کہ اے ابو مسعود سوچو کہ اﷲ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے جتنے تم اس پر ہو ۳؎ میں نے پیچھے پھر کر دیکھا تو وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم تھے ۴؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ آزاد ہے اﷲ کی راہ میں ۵؎ تب حضور نے فرمایا اگر تم یہ نہ کرتے تو تم کو آگ جلاتی یا آگ پہنچتی ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ مشہور صحابی ہیں، بعض نے انہیں اہل بدر سے کہا ہے مگر آپ اس معنے سے اہلِ بدر ہیں کہ بدر میں رہتے تھے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے،آپ کا نام عقبہ ابن عمرو انصاری ہے،بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ہوئے،آخر عمر میں کوفہ قیام رہا ۴۱ھ یا ۴۲ھ میں وفات ہوئی(اکمال) ۲؎ یعنی یہ آواز کلام سنا جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ۳؎ کیونکہ یہ تمہارا مملوک و غلام ہے مگر تم اﷲ تعالٰی کے مملوک بھی ہو مخلوق بھی بندے بھی،جب وہ تمہارے گناہ دیکھتے ہوئے تمہاری روزی بند نہیں فرماتا ہر طرح تم پر کرم کرتا ہے معافی دیتا ہے تو تم بھی اپنے مملوک غلام کو معافی دو۔ ۴؎ جو یہ فرمارہے تھے آپ کی نظر کی اکسیر اور نصیحت کی تاثیر کا وہ اثر ہوا کہ میرا سارا غصہ ختم ہوگیا جوش ٹھنڈا ہوگیا۔ ۵؎ تاکہ یہ آزادی میرے اس قصور کا کفارہ ہوجائے۔ ۶؎ کیونکہ تم نے اسے بے قصور مارا یا قصور سے زیادہ مارا اور اس سے معافی چاہی نہیں لہذا یہ مارنا جرم ہوا اور تھا حق العبد،اس لیے خطرہ تھا۔علماء فرماتے ہیں کہ ایسے موقعہ پر آزاد کردینا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے،اس سے معلوم ہوا کہ گناہ ہوجانے پر کوئی نیکی کردینا اچھا ہے کہ یہ نیکی کفارہ بن جاتی ہے"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔