۱؎ یعنی بے قصور مارے پیٹے،حد سے مراد صرف شرعی حد نہیں بلکہ ہر سخت مار پیٹ ہے۔
۲؎ اس طمانچہ سے مراد ظلمًا طمانچہ مارنا ہے،ادب سکھانے پڑھانے پر طمانچہ مارنا درست ہے یہ ہی حکم شاگرد،مرید،بچے یا رعایا کو مارنے کا ہے کہ بلا قصور مار پر پکڑ ہے،اس کا کفارہ غلام کے لیے تو اسے آزاد کردینا ہے،اور باقی لوگوں کے لیے انہیں کچھ دے کر خوش کردینا ہے،یا اگر وہ لوگ معافی دینے کے لائق ہوں تو ان سے معافی مانگ لینا ہے۔یہ وہ معمولی باتیں ہیں جن کی ہم پرواہ نہیں کرتے مگر ہیں بڑی خطرناک۔میں نے سنا ہے کہ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی قدس سرہ کے ہاں کوئی مزدور کام کررہا تھا کسی نے اسے کہہ دیا او حرامی،اعلیٰ حضرت نے فرمایا اس کی ماں کے زنا کے چار گواہ لاؤ وہ حیران ہوگیا،آخر کار اس نے مزدور سے معافی مانگی اسے پانچ روپے دیئے،اﷲ تعالٰی توفیق خیر دے،انسان اپنی زبان اور اعضاء پر پورا کنٹرول رکھے۔