۱؎ یہ ترجمہ نہایت مناسب ہے یعنی پیغام نکاح دینے کے بعد عورت کو نہ دیکھے ورنہ ناپسندیدگی کی صورت میں عورت کو صدمہ ہوگا بلکہ دیکھنے کے بعد پیغام دے،دیکھنے کی صورتیں پہلے بیان ہوچکیں کہ یا تو کسی حیلہ بہانے سے خود دیکھے یا کسی معتبر عورت سے دکھوالے،مرقات نے بھی خطب کے معنی ارادہ پیغام کیے۔
۲؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نکاح میں عورت کے حسب و نسب دینداری وغیرہ کے ساتھ صورت کا بھی لحاظ رہے،دوسری چیزوں کی تحقیقات تو اور طرح بھی ہوسکتی ہے مگر صورت کی تحقیق دیکھ کر ہی ہوسکتی ہے جن احادیث میں صورت و حسن کی بنا پر نکاح کرنے سے منع فرمایا گیا وہاں صرف صورت کا لحاظ کردینا دینداری کی پرواہ نہ کرنا مراد ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔دوسرے یہ کہ مرد تو عورت کو دیکھنے کی کوشش کرے مگر عورت مرد کو دیکھنے کی کوشش نہ کرے،کیونکہ مرد کی تندرستی اخلاق اور کمائی دیکھی جاتی ہے، حسن عورت کا زیور ہے اور یہ چیزیں مرد کا زیور ہیں۔