Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
26 - 1040
حدیث نمبر 26
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت شیطان کی شکل میں تو آتی ہے اور شیطان کی صورت ہی میں جاتی ہے ۱؎ جب تم میں سے کسی کو کوئی عورت بھلی معلوم ہو اور اس کے دل میں کچھ وسوسہ پڑ جائے تو اپنی بیوی کی طرف قصد کرے اس سے قصد کرے ۲؎ یقینًا یہ عمل اس کے دل کے وسوسہ کو دفع کرے گا۔(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی اجنبی عورت کو آتے ہوئے آگے سے دیکھو یا جاتے ہوئے پیچھے سے دیکھو مرد کے دل میں وسوسے اور برے شہوانی خیال پیدا کرتی ہے جیسے شیطان برے خیال و وسوسے پیدا کرتا ہے لہذا اس سے ایسا ہی ڈرنا چاہیے جیسے شیطان سے ڈرتے ہیں کوئی متقی پرہیزگار اپنے تقویٰ پر پرہیزگاری پر اعتماد نہ کرے اور اجنبی عورتوں سے احتیاط رکھے اس میں اشارہ فرمایا گیا کہ بلا ضرورت عورت گھر سے نہ نکلے اور مرد اجنبی عورت کو کپڑوں  پر سے بھی نہ دیکھے کہ فتنہ اندیشہ ہے،نیز عورت کو لازم ہے کہ لباس فاخرہ عمدہ برقعہ اوڑھ کر نہ باہر جائے کہ بھڑک دار برقعہ پردہ نہیں بلکہ زینت ہے۔(نووی و مرقات)

۲؎ یہ عمل حصول تقویٰ اور دفع وسوسے کے لیے اکسیر ہے صحبت کرلینے سے شہوت کا جوش جاتا رہے گا یہ جوش ہی میلان کی وجہ تھی،علماء فرماتے ہیں کہ عورت کو چاہیے کہ خاوند کے بلانے پر بغیر پس و پیش آجائے کوئی مانع نہ ہو کہ بسا اوقات اکثر جوش شہوت بدن و قلب کو بیمار کردیتا ہے۔(مرقات)
Flag Counter