۱؎ غالبًا مملوک سے مراد لونڈی ہے اور ہوسکتا ہے کہ لونڈی غلام دونوں ہوں۔ خیال رہے کہ آزاد مسلمہ عفیفہ عورت کو زنا کی تہمت لگانے والے پر حد قذف اسی۸۰ کوڑے جاری ہوتے ہیں،مملوکہ لونڈی کو تہمت زنا لگانے والے کو یہ سزا نہیں ہوتی،سرکار فرمارہے ہیں کہ اسے یہ سزا قیامت میں تمام خلق کے سامنے کی جائے گی جس سے وہ رسوا بھی ہوگا اور سزایاب بھی،ہاں اگر واقعی لونڈی غلام زانی ہوں تو پھر الزام لگانے والے کو سزا نہ ہوگی کہ اس نے سچ کہا تھا۔ علماء فرماتے ہیں کہ لونڈی غلام کو تہمت لگانے پر اگرچہ حد نہیں مگر تعزیر ہے غلام چاہے مکمل ہو یا ابھی اس میں شائبہ غلامیت ہو جیسے مکاتب یا مدبر کسی کو تہمت لگانے پر حد نہیں۔
۲؎ یہ حدیث احمد،ابوداؤد،ترمذی نے بھی روایت کی،حاکم نے مستدرک میں حضرت عمرو ابن عاص سے مرفوعًا روایت کی کہ اگر مولیٰ یا زانیہ یا کہ اے زانی کہہ کر پکارے اسے بھی قیامت میں کوڑے لگیں گے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو غصہ میں اپنے بچوں یا نوکروں کو حرامی کہہ دیتے ہیں کہ یہ انکی ماں کو تہمت ہے زبان قابو میں رکھنی چاہیے۔