۱؎ خیر خواہی یہ ہے کہ مولیٰ کا ہر جائز حکم مانے،اس کی چیز برباد نہ ہونے دے،اس کے پس پشت اس کے مال واولاد کی نگرانی کرے۔
۲؎ کہ اﷲ رسول کے احکام پر پابندی سے عمل کرے،مولے کی خدمت کی وجہ سے ان سے بے پرواہ نہ ہوجائے۔
۳؎ کیونکہ اس کی محنت بھی ڈبل ہے خلق کی خدمت خالق کی عبادت۔اس سے معلوم ہوا دنیا دار کی عبادت تارک الدنیا کی عبادت سے افضل ہے۔خیال رہے کہ یہاں مولیٰ کی اطاعت کاذکر رب کی عبادت سے پہلے فرمایا گیا کیونکہ معاملات بمقابلہ عبادات زیادہ اہم ہیں حقوق العبد کی حفاظت حقوق اﷲ سے زیادہ ہے کہ بندہ محتاج ہے رب غنی۔