Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
264 - 1040
حدیث نمبر264
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے پھر وہ کھانا لائے اور اس کی گرمی اور دھواں برداشت کرچکاہو ۱؎ تو اسے اپنے ساتھ بٹھال لے کہ وہ بھی کھائے ۲؎ لیکن اگر کھانا تھوڑا ہو ۳؎ تو اس میں سے خادم کے ہاتھ پر ایک دو لقمے رکھ دے ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں خادم میں لونڈی غلام بلکہ نوکر چاکر سب شامل ہیں۔

۲؎ یعنی اگر کھانا کافی ہے تو اس پکانے والے خادم کو اپنے ساتھ دستر خوان پر بٹھا کر کھلائے،اسے ساتھ بٹھانے میں اپنی ذلت نہ سمجھے جیسا کہ متکبرین کا حال ہے جب مسجد اور قبرستان میں امیر و غریب،آقا و غلام یکجا ہوجاتے ہیں تو یہاں بھی یکجا ہوں تو کیا حرج ہے۔

۳؎ مشفوہ شفۃٌ سے بنا بمعنی ہونٹ،مشفوہ وہ پانی یا کھانا ہے جس پر بہت سے لوگ کھانے والے جمع ہوجائیں،بہت سے منہ کھائیں،اب تھوڑے کو بھی مشفوہ کہہ دیتے ہیں اسی مناسبت سے یا مشفوہ وہ کھانا ہے جو ہونٹوں اور منہ میں لگ کر رہ جائے اچھی طرح پیٹ میں نہ جائے۔

۴؎ یہ حکم استحبابی ہے جس میں بڑی حکمتیں ہیں ان دو ایک لقموں سے کھانے پر نظر نہ لگے گی مالک کو اچھی طرح ہضم ہوگا،نقصان نہ دے گا نیز یہ مکارم اخلاق سے ہے۔
Flag Counter