۱؎ نعما اصل میں نعم ما تھا نعم کی میم ما کی میم میں مدغم ہوگئی۔
۲؎ دوبار نعما فرمانا یا تو تاکید کے لیے ہے یا پہلے نعما سے دنیا کی بہتری مراد تھی اور اس نعما سے آخرت کی بہتری مراد ہے یعنی اگر غلام مرتے دم تک اپنے مولیٰ کی اطاعت اور رب تعالٰی کی عبادت کرتا رہے تو یہ اس کے لیے بہت اچھا ہے یا یہ دنیا میں بھی اچھا ہے اور آخرت میں بھی اچھا، کسی غلام کو اس کے مولیٰ نے آزاد کردیا غلام بہت رویا اور بولا کہ آپ نے میرے لیے خیر کا دروازہ بند کردیا۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کامل نیکی وہ ہے جو مرتے دم تک کی جائے،نیکی پر ہی موت آئے۔