Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
263 - 1040
حدیث نمبر263
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے ۱؎ کہ ان کے پاس ایک خزانچی آیا ۲؎ تو آپ نے اس سے فرمایا کہ تم نے غلام کو ان کا کھانا دے دیا،بولا نہیں،فرمایا جاؤ انہیں دے دو۳؎ کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ انسان کے لیے یہ ہی گناہ بہت ہے کہ مملوک سے اس کا کھانا روکے ۴؎  اور ایک روایت میں یوں ہے کہ انسان کے لیے کافی گناہ یہ ہے کہ اسے ہلاک کردے جس کو روزی دیتا ہے ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ عمرو کا واؤ یا تو اپنا ہے اور یہ واقعہ عبداللہ ابن عمرو ابن عاص کا ہے یا عمر عین کے پیش سے ہے اور واقعہ عبداللہ ابن عمر ابن خطاب کا رضی اللہ عنہم اور واؤ حالیہ ہے۔(مرقات)

۲؎ قہر مان فارسی لفظ ہے جو عربی میں استعمال ہونے لگا ہے اس کے معنے ہیں خزانچی،وکیل گھر کا مختار و منتظم کار۔

۳؎ قوت سے مراد خرچہ ہے،اکثر کھانے پر بولا جاتا ہے،کھانے کا وقت تھا آپ نے اپنے کھانے سے پہلے اپنے لونڈی غلاموں کوکھانا دلوایا،پھر خود کھایا،یوسف علیہ السلام زمانہ قحط میں پہلے مہمانوں کو کھلاتے تھے پھر خود کھاتے تھے اور دن رات میں صرف ایک وقت کھاتے تھے،ایسے  مولیٰ و غلام دنیا کے لیے اﷲ کی رحمت ہیں،ایسے حکام کے زمانہ میں زمین پر آسمان سے برکتیں اترتی ہیں۔

 ۴؎ یا اس طرح کہ انہیں کھانا نہ دے حتی کہ وہ ہلاک ہوجائیں یہ تو سخت ظلم ہے بلکہ قتل ہے یا اس طرح کہ انہیں بہت کم روزی دے جس سے وہ دبلے کمزور ہوجائیں دو چار فاقے کرا کر ایک وقت دے دے یا پیٹ بھر کر نہ دے یہ بھی ظلم ہے۔اس حکم میں لونڈی،غلام پالے ہوئے جانور سب شامل ہیں،بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت اسی لیے دوزخ میں گئی کہ اس نے پالی ہوئی بلی کو بھوکا باندھے رکھا حتی کہ وہ مر گئی،آج کل بعض قصائی جانوروں کو کئی کئی وقت بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کرتے ہیں یہ سخت ظلم ہے،شرعی حکم تو یہ ہے کہ شکم سیر جانور کو بھی ذبح سے پہلے کھانا پانی دکھالو کھلالو۔

۵؎ علماء فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم کرنا انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ گناہ ہے کیونکہ انسان تو کسی سے اپنا دکھ درد کہہ سکتا ہے بے زبان جانور کس سے کہے اس کا اﷲ کے سواء فریاد سننے والا کون ہے،بھوکے پیاسے اونٹوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنے مالکوں کی شکایت کیں اور سرکار نے ان کے اعلیٰ انتظامات فرمائے صلی اللہ علیہ وسلم۔شعر

خلق کے داد رس سب کے فریاد رس		کہف روز مصیبت پہ لاکھوں سلام

ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم رحمۃ عالمین ہیں،آج ہم سگے بھائیوں سے وہ سلوک نہیں کرتے جو سلوک غلاموں سے کیا جاتا تھا۔یہاں صاحب مشکوۃ سے غلطی ہوئی کہ آخر میں رواہ مسلم فرمادیا،مسلم کی روایت قوتہ پر ختم ہوگئی اور کفی بالمرء سے ابوداؤد و نسائی کی روایت ہے۔(مرقات)
Flag Counter