Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
262 - 1040
حدیث نمبر262
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمہارے بھائی ہیں جنہیں اﷲ تعالٰی نے تمہارے قبضہ میں دے دیا ۱؎ تو جسے اﷲ اس کے بھائی کا مالک بنا دے تو اسے اس میں کھلائے جو خود کھائے اور اس سے پہنائے جو خود پہنے ۲؎ اور اس کام کی تکلیف نہ دے جو اس پر غالب آجائے اور اگر غالب کام کی تکلیف دے تو اس پر اس کی مدد کرے ۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اخوانکم یا تو پوشیدہ مبتدا کی خبر ہے یعنی تمہارے غلام تمہارے انسانی یا دینی بھائی ہیں،یا یہ مبتدا ہے اور جعلہم اﷲ خبر۔ مطلب یہ ہے کہ تم اور تمہارے غلام انسانیت اور دین میں تمہاری مثل ہیں کہ تم اور وہ دونوں اولاد آدم اور مسلمان ہیں، رب تعالٰی اس کے عکس پر بھی قادر تھا کہ انہیں مولیٰ اور تمہیں غلام بنا دیتا اس کا کرم ہے کہ تم کو مولی اور اس کو غلام بنادیا،اس کا شکریہ یہ ہے کہ ہمارے اس حکم پر عمل کرو۔

۲؎ یہ حکم استحبابی ہے۔خیال رہے کہ مولیٰ پر اپنے غلام لونڈی کا کھانا کپڑا شرعًا واجب ہے مگر اپنے جیسا کھانا کپڑا دینا مستحب ہے جس پر بہت سے صحابہ کرام نے عمل کیا۔ بعض علماء نے فرمایا کہ یہاں مما یا کل جنس کے بیان کے لیے ہے نہ کہ نوع کے لیے یعنی مولیٰ کو چاہیے کہ اپنی طرح غلام کو بھی پائجامہ،کرتہ،ٹوپی یا عمامہ دے اگرچہ اس کا اپنا یہ لباس اعلیٰ لٹھے ململ کا ہو غلام کا معمولی گاڑھے کا،مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں۔

۳؎ یعنی اگر غلام سے بھاری و مشکل کام کرائے تو خود یا اپنے دوسرے غلام یا اپنی اولاد کو اس میں شریک کردے اگر بھاری شہتیر  اٹھوانا ہے تو غلام کے ساتھ خود بھی لگ جائے یا اپنے کسی ماتحت کو لگادے۔
Flag Counter