Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
25 - 1040
حدیث نمبر 25
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو حضور نے مجھے نظر پھیرلینے کا حکم دیا ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی اگر اجنبیہ عورت پر بلا قصد نظر پڑ جائے تو اس میں گناہ کیا ہے اور اس کا کفارہ کیا ہے۔

۲؎ یعنی اس اچانک نظر پڑ جانے میں تو گناہ نہیں مگر فورًا نگاہ ہٹا لو اگر دوبارہ دیکھ لیا یا اسے دیکھتے رہے تو گنہگار ہوں گے کہ اس میں گناہ کا ارادہ پالیا گیا۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ عورت پر منہ چھپانا واجب نہیں بلکہ مرد پر نگاہ نیچی رکھنا ضروری ہے کیونکہ سرکار نے مرد کو نظر پھیر لینے کا حکم دیا(مرقات)مگر یہ اسدلال ضعیف ہے اگلی حدیث میں آئے گا کہ عورت بھی اجنبی مرد کو نہ دیکھے اگرچہ مرد نا بینا ہو یہاں وہ صورت مراد ہے کہ عورت بے پردہ نہ تھی پھر مرد کی نظر پڑگئی۔
Flag Counter