۱؎ نفقہ یا نفوق بمعنی ہلاکت سے ہے یا نفاق بمعنی علیحدگی ورواج سے بنا،امام محمد زمخشری فرماتے ہیں کہ عربی میں جس کا ف کلمہ نون ہو اور عین کلمہ ف اس میں جانے و نکلنے کے معنے ضرور ہوتے ہیں جیسے نفق،نفر،نفد،نفذ،نفخ،نفس،نفی وغیرہ۔ اصطلاح میں نفقہ خرچہ کو کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی ختم ہوتا رہتا ہے۔ خیال رہے کہ کسی کا نفقہ واجب ہونے کی تین وجہیں ہیں:زوجیت،قرابت ،ملکیت،چونکہ نفقے بہت سی قسم کے ہیں۔اولاد کا خرچہ، ماں باپ کا، بیوی کا،غلام و لونڈی کا، مملوکہ جانوروں کا اس لیے نفقات جمع فرمایا۔مملوک کے مالک پر تین حق ہیں: کھانا ، کپڑا اور طاقت سے زیادہ کام نہ کرانا۔(از مرقات واشعہ) ظاہر یہ ہےکہ یہاں مملوک سے مراد لونڈی غلام ہیں اور ہوسکتا ہے کہ مملوک جانور بھی اس میں داخل ہوں۔
حدیث نمبر259
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ہندا بنت عتبہ نے عرض کیا ۱؎ یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ابو سفیان بخیل آدمی ہیں مجھے اس قدر خرچہ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہو مگر یہ کہ میں ان کی بے خبری میں ان سے لے لوں ۲؎ تو فرمایا جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو بقدر معروف لے لو ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ کا نام ہندا بنت عتبہ ابن ربیعہ ابن عبد شمس ابن عبد مناف ہے یعنی عبد مناف میں حضور سے مل جاتی ہیں عتبہ کفار مکہ کا سردار تھا ہندا ابوسفیان کی بیوی اور امیر معاویہ کی والدہ ہیں،فتح مکہ کے سال ابوسفیان کے بعد ایمان لائیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا نکاح قائم رکھا ان کے زمانہ کفر کے حالات سب کو معلوم ہیں۔ ایک دن بارگاہ رسالت میں عرض کرنے لگیں یارسول اﷲ پہلے مجھے آپ اور آپ کے صحابہ بہت ناپسند تھے اب مجھے آپ اور آپ کے صحابہ بہت ہی محبوب معلوم ہوتے ہیں حضور نے فرمایا وایضًا یعنی ابھی تم کو مجھ سے محبت اور بھی زیادہ ہوگی جس قدر تمہارا ایمان کامل ہوتا جائے گا اسی قدر میری محبت بڑھتی جائے گی یا یہ مطلب ہے کہ ہمارا بھی یہی حال ہے کہ ہم پہلے تم سے نفرت کرتے تھے اب محبت کرتے ہیں،آپ کی وفات زمانہ فاروقی میں ابو قحافہ(والد ابوبکرالصدیق)کے وفات کے دن ہوئی بڑی عالمہ فصیحہ تھیں،زمانہ فاروقی میں بہت جہادوں میں شریک ہوئیں اور بڑے کارنامہ کئے رضی اللہ عنہا۔ ۲؎ یعنی ان کی جیب یا ان کے گھر سے انکی بے خبری میں جو کچھ لے لوں وہ تو مجھے آسانی سے مل جاتا ہے وہ خود اپنی خوشی سے کافی خرچہ نہیں دیتے۔ ۳؎ یعنی تم کو اجازت ہے کہ بقدر ضرورت ابوسفیان سے بغیر پوچھے ان کا مال لے سکتی ہو۔خیال رہے کہ یہ فتویٰ ہے فیصلہ یعنی قضا نہیں ورنہ ابو سفیان کو بلا کر جواب دعویٰ سنا جاتا فیصلہ بغیر دوسرے فریق کے بیان لئے نہیں ہوتا۔ اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوئے: (۱)بیوی کا خرچہ خاوند پر لازم ہے اگرچہ بیوی غنی ہو(۲) چھوٹی اور ضرورتمند اولاد کا خرچہ باپ پر لازم ہے(۳) اہل قرابت کا خرچہ بقدر ضرورت لازم ہے(۴)فتویٰ اور فیصلہ کے وقت اجنبیہ عورت سے کلام کرنا مفتی و قاضی کو جائز ہے۔فتویٰ یا فیصلہ لینے کے لیے حاکم و عالم کے سامنے کسی کے عیب بیان کرنا جائز ہے، حق والا اپنا حق بغیر اس کی اجازت بلکہ بغیر اس کے علم کے بھی لے سکتا ہے،فتویٰ میں شرط کا بیان ضروری نہیں بغیر شرط فتویٰ دیا جاسکتا ہے یعنی یہ لازم نہیں کہ مفتی کہے کہ اگر تو سچا ہے اور صورت حال وہ ہی ہے جو تو کہتا ہے تو حکم یہ ہے بلکہ اس کے بغیر بیان کیے ہوئے حکم شرعی سنا دینا جائز ہے اگرچہ تعلیق افضل ہے۔بچہ کی پرورش کا حق ماں کو ہے لہذا وہ خاوند کا مال اس پر خرچ کرسکتی ہے،بہت سی باتیں عرف و عادت پر مبنی ہوتی ہیں جیسا کہ خرچہ وغیرہ بیوی ضرورت کے موقعہ پر حاکم یا عالم کے پاس جاسکتی ہے،غائب خاوند کے مال سے اس کی بیوی بچوں کا خرچہ دلوایا جائے جب کہ وہ روزی نہ دے گیا ہو نہ بھیجتا ہو۔بعض علماء نے اس حدیث سے قضا علی الغائب جائز مانی وہ فرماتے ہیں کہ یہ حضور کا فیصلہ تھا جو ابوسفیان کی غیرموجودگی میں ان کے خلاف دیا گیا مگر حق یہ ہے کہ یہ فتویٰ تھا۔(مرقات)ورنہ گواہی ضرور لی جاتی،بیوی ضرورت پر اپنے خاوند کا مال فروخت کرسکتی ہے کیونکہ ہندہ روپیہ پیسہ بھی ابوسفیان کی جیب سے نکال سکتی تھیں اور روپیہ پیسہ فروخت ہوکر ہی کام آتا ہے۔