۱؎ یہ حضرت ابن عمر کی رائے شریف ہے کہ کنواری لونڈی جو پہلے کسی کے نکاح میں نہ تھی یا جس کا خاوند بہت چھوٹا بچہ تھا جو صحبت نہیں کرسکتا تھا یا ابھی اس کی رخصتی نہ ہوئی تھی کہ گرفتار ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی اس کے استبراء کی ضرورت نہیں کیونکہ استبراء تو یہ معلوم کرنے کو ہوتا ہے کہ لونڈی حاملہ ہے یا نہیں ان صورتوں میں حمل کا احتمال ہی نہیں تو استبراء کی کیا ضرورت ہے مگر تمام علماء فرماتے ہیں کہ استبراء کے وجوب کا سبب ملکیت حاصل کرنا ہے لہذا ایسی لونڈی سے استبراء کیا جائے،دیکھو اگر عورت کا خاوند خلوت سے پہلے فوت ہوجائے تو بھی عدت واجب ہے حالانکہ وہاں حمل کا احتمال ہی نہیں،گزشتہ احادیث میں ہر لونڈی کے استبراء کا حکم دیا گیا،نیز حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوۂ اوطاس کی تمام لونڈیوں سے استبراء کاحکم دیا حالانکہ ان میں بعض کنواریاں بھی تھیں،غالبًا حضرت ابن عمر کو وہ احادیث پہنچی تھی اور قیاس صحابی حدیث مرفوع کے مقابل معتبر نہیں۔