۱؎ عرض کیا مجھے اجازت دی جائے کہ فصد لینے والے سے فصد کرادوں،معلوم ہوا کہ عورت کے لیے بہتر یہ ہی ہے حکیم ڈاکٹر کا علاج خاوند کی اجازت سے کرائے خصوصًا جب کہ علاج میں بے پردہ ہونا پڑتا ہو کیونکہ فصد میں یقینًا فصد کی جگہ کو دیکھنا پڑے گا۔
۲؎ ابو طیبہ کا نام نافع ہے محیصہ ابن مسعود انصاری کے آزاد کردہ غلام ہیں، صحابی ہیں،مدینہ منورہ میں فصد کھولنے کے بڑے ماہر تھے(اکمال)
۳؎ علماء فرماتے ہیں کہ علاج و فصد ختنہ کے لیے مریض کی جاء مرض اجنبی حکیم بھی دیکھ سکتا ہے۔(مرقاۃ و اشعہ)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ایسے علاج کے لیے عورت کا محرم حکیم ہو تو بمقابلہ اجنبی کے اس سے علاج کرانا بہتر ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ نابالغ بچہ سے پردہ نہیں۔