روایت ہے حضرت زینب بنت کعب سے ۱؎ کہ فریعہ بنت مالک ابن سنان جوابو سعید خدری کی بہن ہیں انہوں نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ سے اپنے گھر لوٹ جانے کے متعلق پوچھتی تھیں جو بنی خدرہ میں تھا ۲؎ کیونکہ ان کے خاوند اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کے پیچھے گئے غلاموں نے انہیں قتل کردیا۳؎ فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ میں اپنے گھر لوٹ جاؤں کیونکہ میرے خاوند نے مجھے کسی ایسے گھر میں نہ چھوڑا جس کا وہ مالک ہو نہ خرچہ میں۴؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہاں۵؎ چنانچہ میں لوٹ گئی حتی کہ جب میں حجرہ یا مسجد میں پہنچی تو مجھے بلایا ۶؎ اور فرمایا اپنے گھر میں رہو حتی کہ قرآنی حکم اپنی معیاد کو پہنچ جائے ۷؎ فرماتی ہیں کہ میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری ۸؎(مالک،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)۹؎
شرح
۱؎ آپ زینب بنت کعب ابن عجرہ انصاریہ ہیں بنی سالم ابن عوف قبیلہ سے ہیں تابیعہ ہیں بڑی عالمہ زاہدہ فقیہ تھیں۔ ۲؎ یعنی انہیں اپنے خاو ند کی وفات کی خبر اور گھر میں ملی تھی آپ چاہتی تھیں کہ اپنے میکہ جا کر عدت گزاریں ان کے میکہ کا گھر بنی خدرہ میں تھا اسی وجہ سے انکے بھائی کو ابوسعید خدری کہا جاتا ہے یعنی قبیلہ بنی خدرہ میں رہنے والے۔ ۳؎ یہ قتل کا واقعہ مقام قدوم میں ہوا جو مدینہ منورہ سے کچھ فاصلہ پر ہے،اس قتل کی خبر مدینہ میں ان بی بی صاحبہ کو پہنچی۔ ۴؎ نفقۃ مجرور ہے کیونکہ منزل پر معطوف ہے یعنی میرے خاوند نے نہ تو اپنا مملوکہ مکان چھوڑا ہے جس میں اپنی عدت کا زمانہ گزار لوں،اور نہ خرچہ چھوڑا ہے جو وہاں بیٹھ کر کھاؤں،معلوم ہوتا ہے کہ کرایہ کے مکان میں تھیں یا کسی نے اپنا مکان انہیں عاریۃ دیا ہوگا۔ ۵؎ یعنی جب ایسی مجبوری ہے تو اپنے میکے چلی جاؤ وہاں ہی عدت گزارو۔ ۶؎ یا خود ہی مجھے آواز دے کر بلالیا یا کسی خادم کو حکم دیا جس نے مجھے واپس لوٹایا۔ ۷؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ آخری فرمان عالی پہلے حکم کا ناسخ ہے۔اولًا ان بی بی کو منتقل ہونے کی اجازت دی پھر اس اجازت کو منسوخ فرمادیا۔اس سے معلوم ہوا کہ عمل سے پہلے بھی حکم منسوخ ہوسکتا ہے۔شب معراج میں پچاس نمازوں کا حکم ہوا مگر پینتالیس نمازیں عمل سے پہلے ہی منسوخ ہوگئیں۔ امام شافعی وغیرہم فرماتے ہیں کہ پہلا حکم جواز کے لیے تھا دوسرا استحباب کے لیے کیونکہ ان کے ہاں معتدہ کو مکان نہیں ملتا ۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ معتدہ اپنے اسی مکان میں عدت گزارے جہاں خاوند کی موت کی خبر پائے،ہوسکتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو بعد میں پتہ لگا ہو کہ مکان والا ان بی بی صاحبہ کو مکان سے نکالے گا نہیں تب یہ حکم دیا ہو،ورنہ اگر معتدہ کرایہ یا عاریۃً کے مکان میں ہو اور مالک مکان اب نہ رہنے دیتا ہو تو عورت کو منتقل ہوجانے کی اجازت ہے۔ ۸؎ زمانہ عثمانی میں حضرت عثمان غنی نے ان بی بی صاحب کو بلا کر یہ حدیث ان سے سنی اور اس پر ہی عمل کا حکم دیا کہ معتدۂ وفات کو عدت میں مکا ن سے نہ نکالاجائے۔یہ ہی قول ہے حضرت عمر عثمان،عبداﷲ ابن عمرو ابن مسعود رضی اللہ عنہم کا۔(مرقات) ۹؎ یہ حدیث ابن حبان و حاکم نے بھی نقل کی،حاکم نے فرمایا کہ حدیث صحیح ہے امام ذہبی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح و محفوظ ہے۔دارقطنی کی روایت میں ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ معتدہ جہاں چاہے غسل کرے اس کی اسناد میں ابو مالک نخعی اور محبوب ابن محرز ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں،نیز اس میں عطاء ابن صائب مختلط ہے اور ابوبکرابن مالک ضعیف تر ہے اسی لیے اسے دار قطنی نے ہی معلل فرمادیا۔غرضکہ وہ حدیث کسی طرح قابل عمل نہیں(مرقات)