| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ جب ابو سلمہ فوت ہوئے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایلوالگا رکھا تھا ۱؎ تو فرمایا اے ام سلمہ یہ کیا ہے ؟ میں بولی وہ ایلوا ہے جس میں خوشبو نہیں ۲؎ تو فرمایا کہ یہ چہرے کو رنگین تو کرتا ہے لہذا یہ نہ لگاؤ مگر رات میں ۳؎ اور دن میں چھوڑ دو اور نہ خوشبو دار تیل اور نہ مہندی لگاؤ کہ مہندی خضاب ہے ۴؎ میں بولی کہ پھر کنگھی کس چیز سے کروں یا رسول اﷲ ؟ ۵؎ فرمایا بیری سے کہ اس سے اپنے سر کا لیپ کرلو ۶؎ (ابوداؤد،نسائی)۷؎
شرح
۱؎ یعنی کسی وجہ سے اپنے چہرے پرایلو کا لیپ کیا ہوا تھا۔(مصبر)مشہور کڑوی دوا ہے۔ ۲؎ یعنی عدت میں خوشبو لگانا منع ہے اور ایلوے میں خوشبو ہے نہیں اس وجہ سے میں نے اس کا لیپ کرلیا۔ ۳؎ یعنی عدت میں صرف خوشبو ہی ممنوع نہیں بلکہ زینت بھی ممنوع ہے ایلوا خوشبودار تو نہیں مگر چہرے کا رنگ نکھار دیتا ہے اسے رنگین بھی کردیتا ہے لہذا زینت ہونے کی وجہ سے اس کا لیپ ممنوع ہے اگر لیپ کی ضرورت ہی ہو تو رات میں لگالیا کرو کہ وہ وقت زینت کا نہیں،دن میں دھو ڈالا کرو یشب شیوب سے بنا بمعنی آگ بھڑکا دینا اسی لیے جوانی کو شباب کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں شہوت بھڑکی ہوتی ہے۔(اشعہ) ۴؎ یعنی زمانہ عدت میں خوشبودار تیل بدن کے کسی حصہ خصوصًا سر میں استعمال نہ کرو اور ہاتھ پاؤں اور سر میں مہندی نہ لگاؤ کہ مہندی میں بھینی خوشبو بھی ہے رنگت بھی۔ ۵؎ یعنی عورت کو سر دھونے گنگھی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب یہ چیزیں مجھے ممنوع ہوگئیں تو یہ ضرورت کیسے پوری کروں۔ ۶؎ تغلفین غلف سے بنا پردہ و غلاف یعنی بیر ی کے پتے اتنی تھوپ سکتی ہو کہ تمام بال چھپ جائیں اور بیری سر کا غلاف بن جائے۔ ۷؎ یہ حدیث احمد نے بھی نقل کی مگر یہ اسناد ضعیف۔ خیال رہے کہ خوشبو دار تیل لگانا معتدہ کے لیے بالاجماع ممنوع ہے مگر بغیر خوشبو کا تیل امام اعظم و شافعی کے ہاں ممنوع ہے امام احمد و مالک کے ہاں جائز وہ دونوں امام فرماتے ہیں کہ اس تیل سے زینت حاصل ہوجاتی ہے ضرورۃً جائز ہے۔مرقات)