۱؎ پچھلی حدیث میں خلوت کا ذکر تھا یہاں بے پردہ آمنے سامنے آنا کا ذکر ہے یعنی غیر محرم عورت کے پاس بے پردہ نہ جاؤ اگر چہ ذی رحم ہی ہو،جیسے چچا زاد، خالہ زاد،پھوپھی زاد بھائی بہن کہ ان سے پردہ چاہیے کہ اگر چہ ذی رحم تو ہیں مگر محرم نہیں ان سے نکاح درست ہے۔
۲؎ یعنی بھاوج کا دیور سے بے پردہ ہونا موت کی طرح باعث ہلاکت ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حمو سے مراد صرف دیور یعنی خاوند کا بھائی ہی نہیں بلکہ خاوند کے تمام وہ قرابت دار مراد ہیں جن سے نکاح درست ہے جیسے خاوند کا چچا ماموں پھوپھا وغیرہ اسی طرح بیوی کی بہن یعنی سالی اور اس کی بھتیجی بھانجی وغیرہ سب کا یہ ہی حکم ہے۔خیال رہے کہ دیور کو موت اس لیے فرمایا کہ عادتًا بھاوج دیور سے پردہ نہیں کرتیں بلکہ اس سے دل لگی،مذاق بھی کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اجنبیہ غیر محرم سے مذاق دل لگی کسی قدر فتنہ کا باعث ہے اب بھی زیادہ فتنہ دیور بھاوج اور سالی بہنوئی میں دیکھے جاتے ہیں۔