۱؎ یعنی اگر ان عورتوں کے خاوند انہیں زنا کا الزام دیں تو ان کے اور انکے خاوندوں کے درمیان لعان نہ ہوگا یہاں بین ازواجھن پوشیدہ ہے۔
۲؎ خیال رہے کہ اگر الزام زنا لگانے والا خاوند غلام یا کافر ہو یا کبھی تہمت کی سزا پاچکا ہو جسے محدود فی القذف کہتے ہیں تب تو لعان نہ ہوگا مگر خاوند کو تہمت کی سزا اسی۸۰ کوڑے مارے جائیں گے کیونکہ ان صورتوں میں خاوند گواہی کا اہل نہیں اور خاوند تو گواہی کا اہل ہو مگر بیوی اہل نہ ہو مثلًا بیوی لونڈی یا کافرہ یا چھوٹی لڑکی یا مجنونہ یا زانیہ ہو اسے کبھی تہمت کی سزا لگ چکی ہو تو نہ تو لعان ہوگا نہ خاوند کو تہمت کی سزا لگے کیونکہ اس صورت میں لعان کی رکاوٹ عورت کی طرف سے ہے۔(دیکھو فتح القدیر شرح ہدایہ اور مرقات)غرضکہ لعان میں شرط یہ ہے کہ دونوں خاوند بیوی گواہی کے اہل ہوں کیونکہ لعان میں دونوں کی قسمیں مثل گواہی کے ہوتی ہیں۔
۳؎ معلوم ہوا کہ آزاد عورت غلام سے نکاح کرسکتی ہے مگر اپنے غلام سے نہیں دوسرے کے غلام سے ،یہ نہیں ہوسکتا کہ مرد یہودی یا عیسائی ہو اور عورت مسلمان کہ مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر مرد سے نہیں ہوسکتا۔
۴؎ یہ حدیث دار قطنی نے بھی متعدد اسنادوں سے روایت کی اگر تمام اسنادیں ضعیف بھی ہوں تب بھی حدیث لائق عمل ہے کہ تعداد اسناد سے ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے۔(مرقات)