روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں ایک شخص کھڑا ہوا بولا یا رسول اﷲ کہ فلاں شخص میرا بیٹا ہے میں نے اس کی ماں سے زمانہ جاہلیت میں زنا کیا تھا ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسلام میں ایسا دعویٰ جائز نہیں۲؎ جاہلیت کے دور کی باتیں گئیں بچہ فراش کا ہے زانی کے لیے پتھر ہیں ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اسلام سے پہلے عرب میں عمومًا زنا کو عیب نہیں سمجھتے تھے اس لیے علانیہ اس کا اقرار و اظہار کردیتے تھے بلکہ زیادہ زنا پر فخر کرتے تھے فخریہ قصیدے لکھتے تھے دیکھو سبعہ معلقہ وغیرہ نیز اس زمانہ میں زنا سے نسب ثابت ہوجاتا تھا،اس بنا پر یہ عرض و معروض تھی یہ تو حضور انور کی طاقت ہے کہ ایسے ملک میں تہذیب پھیلائی جانوروں کو انسان گر بنادیا۔شعر انسانیت کو فخر ہوا تیری ذات سے بے نور تھا خرد کا ستارہ تیرے بغیر اب نئی تہذیب کے دلدادہ اسی وحشت و بے حیائی کی طرف دوڑے جارہے ہیں ان کے ہاں بے پردگی غیر مردوں سے اپنی بیویوں کا ملنا جلنا باعث فخر ہے اسی بے حیائی کو مٹانے اسلام آیا تھا جسے اب پھیلایا جارہا ہے۔ ۲؎ یعنی اسلام میں زنا کی بنا پر نسب کا دعویٰ کرنا درست نہیں نہ اس سے نسب ثابت ہوسکتا ہے۔ ۳؎ لہذا اب زنا کی سزا آجانے کے بعد جو زنا کرے گا سنگسار کیا جائے گا لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اس شخص کو اقرار زنا کی وجہ سے رجم کیوں نہ کیا اس لیے کہ یہ زنا دور جاہلیت میں ہوچکا تھا جب کہ نہ اسلام دنیا میں تشریف لایا تھا نہ اسلامی احکام حرمت زنا اور حدود شرعیہ۔