۱؎ یعنی جب لعان والا مرد چار قسمیں کھا چکا پانچویں کا ارادہ کیا تب دوسرے شخص کویہ حکم دیا گیا تاکہ وہ پانچویں قسم سوچ سمجھ کر کھالے کہ اس قسم پر فیصلہ ہے یہ منہ پر ہاتھ رکھنا اسے خوف دلانے کے لیے ہے کہ اگر جھوٹا ہو تو اس قسم کی ہمت نہ کرے مگر صرف مرد کے منہ پر ہی ہاتھ رکھا نہ کہ عورت کے کیونکہ اجنبی عورت کے منہ پر اجنبی مرد ہاتھ نہیں رکھ سکتا کہ اس کا جسم چھوتا رہے حرام ہے اگر اس کام کے لیے کوئی عورت مقرر کردی جائے جو لعان والی عورت کے منہ پر ہاتھ رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
۲؎ یعنی اس قسم سے یا گناہ و سزا یا تفریق واجب ہوجائے گی لہذا سوچ سمجھ کر یہ قسم کھاؤ۔