روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جب لعان کی آیت اتری جو عورت کسی قوم پر اسے داخل کرے جو ان میں سے نہیں ۱؎ تو وہ اﷲ کی رحمت میں سے کسی حصہ میں نہیں ۲؎ اور اسے اﷲ اپنی جنت میں ہر گز داخل نہ کرے گا۳؎ اور جو شخص اپنے بچہ کا انکار کرے وہ اسے دیکھتا ہو۴؎ تو اﷲ اس سے حجاب فرمائے گا۵؎ اور اس کو مخلوق کے سامنے اگلے پچھلوں میں رسوا کرے گا۶؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)
شرح
۱؎ یعنی کسی سے زنا کرے کیونکہ زنا کی وجہ سے زنا کا بچہ اپنی قوم میں داخل کرے گی حالانکہ وہ اس قوم سے نہ ہوگا۔ ۲؎ اس طرح کہ دنیا میں اﷲ کی رحمت پائے نہ آخرت میں۔خیال رہے کہ دنیا میں اسے رزق وغیرہ مل جانا اﷲ کی رحمت کی علامت نہیں یہ تو کفار کو بھی مل جاتا ہے کیونکہ فسق و فجور کے باوجود دنیاوی عیش ملنا عذاب ہے۔ ۳؎ اگر حلال جان کر زنا کرے تو کافرہ ہے اور کافر پر جنت حرام ہے اور اگر حرام جان کر کرے تو فاسِقہ ہے فاسق آدمی دخول کے مستحق نہیں۔ ۴؎ یعنی وہ بچہ اسے میٹھی نگاہوں سے تکتا ہو مگر یہ شقی القلب سخت دل اس کی بھولی صورت امیدوار نگاہوں کی پرواہ نہ کرے اس کا انکار کردے کہ میرا بیٹا نہیں حرام کا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ شخص جانتا ہو کہ یہ بچہ میرا ہی ہے پھر انکار کرے مگر پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں اب جاننے کے معنے یہ ہیں کہ اس شخص کے پاس بچہ کے حرامی ہونے کی کوئی دلیل نہ ہو محض بدمعاشی یا محض شبہ سے بچہ کا انکار کرتا ہو۔ ۵؎ یعنی اسے اپنا دیدار نہ دکھائے کہ جنت نہ دے گا کیونکہ دیدار الہٰی کی اصل جگہ جنت ہی ہے۔ ۶؎ یعنی قیامت میں اسے تمام مخلوق کے سامنے رسوا کرے گا جب اولین و آخرین جمع ہوں گے ۔خیال رہے کہ قیامت میں مسلمانوں کے خفیہ گناہوں کی پردہ پوشی ہوگی علانیہ گناہوں کی رسوائی ہوگی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ مسلمان کی پردہ دری کیوں ہوئی۔