Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
234 - 1040
حدیث نمبر234
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا بولا میری بیوی کسی چھو نے والے کا ہاتھ رد نہیں کرتی ۱؎ تو اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے طلاق دے دے ۲؎ وہ بولا میں اس سے محبت کرتا ہوں ۳؎ تو فرمایا تو اسے روک رکھ ۴؎ (ابوداؤد،نسائی)اور نسائی نے فرمایا کہ بعض راویوں نے اسے حضرت ابن عباس تک مرفوع کیا اور بعض نے اسے مرفوع نہ کیا اور کہا کہ یہ حدیث ثابت نہیں ۵؎
شرح
۱؎ یعنی فاجرہ زانیہ ہے کہ جو بدمعاش اس سے زنا کرنا چاہیے اسے منع نہیں کرتی کرالیتی ہے۔یا جو کوئی میرے مال کو ہاتھ لگائے اسے روکتی نہیں مال لے جانے دیتی ہے گھر کی حفاظت نہیں کرتی عام شارحین نے پہلے معنے کو ترجیح دی ہے غالبًا صاحب مشکوۃ نے بھی حدیث کے یہ ہی معنے سمجھے ہیں اسی لیے یہ حدیث باب اللعان میں لائے لیکن دوسرے معنے کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو اس کو لعان کا حکم دیا نہ اسے حد قذف یعنی تہمت کی سزا دی اگر وہ زنا کا الزام دیتا تو ان دونوں چیزوں میں اسے کچھ کرنا پڑتا۔(مرقات و لمعات واشعہ)

۲؎ معلوم ہوا کہ فاسِقہ بدکار بی بی کو طلاق دے دینا بہتر ہے اسی طرح جو عورت گھر کو نہ سنبھال سکے اسے طلاق دے دینا بہتر ہے جیسے کہ پہلے جملہ کی دو شرحوں سے معلوم ہوا۔

۳؎ یا اس کے حسن و جمال کی وجہ سے یا اس لیے کہ اس سے میرے بچے ہیں اسے علیحدہ کردینے سے بچے برباد ہوں گے مجھے اپنے متعلق خطرہ ہے کہ گناہ میں پھنس جاؤں۔

۴؎ یعنی اسے بدکاری یا لاپرواہی گھر برباد کرنے سے روک اور طلاق نہ دے،معلوم ہوا کہ فاسِقہ عورت کو طلاق دے دینا واجب نہیں خصوصًا جب کہ خاوند اس کے بغیر صبر نہ کرسکے اس کو طلاق دے دینے پر اپنے فسق و فجور میں گرفتار ہوجانے کا قوی خطرہ ہو۔لہذا حدیث بالکل بے غبار ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فاسِقہ بیوی اسی طرح فاسق اولاد کو ہر ممکن تدبیر کے ذریعہ گناہوں سے روکنا ضروری ہے۔

۵؎ یعنی حدیث کا اتصال حضرت ابن عباس تک ثابت نہیں حدیث منقطع ہے یہ مطلب نہیں کہ اصل حدیث ہی ثابت نہیں یہ حدیث امام شافعی نے اپنی سند میں سفیان ابن عیینہ عن ہارون ا بن زیات عن عبداﷲابن عبید اﷲ ابن عمیر کچھ مختلف الفاظ سے نقل فرمائی(مرقاۃ واشعہ)
Flag Counter