| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اپنے باپ دادوں سے منہ پھیرو ۱؎ جو اپنے باپ سے اعتراض کرے اس نے کفران کیا ۲؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت عائشہ کی حدیث خدا سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نماز خسوف کے باب میں ذکر ہوا ۳؎
شرح
۱؎ اگر وہ غریب یا غیر عزت والے ہوں تو اپنے کو ان کی اولاد کہنے سے شرم و غیرت نہ کرو۔ ۲؎ جو شخص اپنا نسب بدلنے کو حلال جانے وہ کافر ہے اور اجماع امت کا مخالف ہے اور جو حرام جان کر یہ حرکت کرے وہ کافر کا سا کام کرتا ہے یا اپنے خاندان کا ناشکرا ہے یارب تعالٰی کاناشکرا بہرحال یہ فعل یا کفر ہے یا حرام۔(مرقات) ۳؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں بھی تھی میں نے تکرار سے بچنے کے لیے یہاں سے حذف کردی(مرقات)
۱؎ آپ عبدشمس ابن عبد مناف کی اولاد سے ہیں،آپ کا نام پہلے عبدالکعبہ تھا کنیت ابو سعید شمسی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عبدالرحمن نام رکھا،مشہور صحابی ہیں،قرشی ہیں،فتح مکہ کے سال ایمان لائے۔ ۲؎ طواغی جمع ہے طاغیہ کی بمعنی سرکشی کرنے والے یا سرکش بنانے والے،اس سے مرادبت ہیں کہ یہ لوگوں کی سرکشی کا باعث ہیں ۔اہلِ عرب بتوں اور باپ دادوں کی قسمیں بہت کھاتے تھے ان دونوں سے منع فرمادیا گیا۔ خیال رہے کہ بتوں کی قسم کھانا شرک ہے باپ دادوں کی قسم کھانا ممنوع و مکروہ ہے۔