۱؎ یعنی جو دیدہ ودانستہ اپنے کو اپنے باپ کے سوا کسی اور شخص کا بیٹا بتائے یا اس کی میراث لینے کے لیے یا اپنی عزت و آبرو بڑھانے کے لیے یا کسی اور مصلحت سے تو وہ اولًا یا ابرار کے ساتھ جنت میں نہ جاسکے گا یا جو شخص یہ کام حلال جان کر کرے وہ جنت سے بالکل محروم ہے۔ اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو سید نہیں مگر اپنے کو سید کہتے کہلواتے ہیں یہ بیماری بہت لوگوں میں ہے یہ حدیث مختلف اسنادوں سے مختلف الفاظ سے آئی ہے چنانچہ ابوداؤد ابن ماجہ ،احمد نے ان ہی دونوں صحابیوں سے اور ابوداؤد نے حضرت انس سے روایت کی کہ جو شخص اپنے غیر باپ کو باپ بتائے یا اپنے غیر مولے کی طرف اپنے کو منسوب کرے اس پر تاقیامت اﷲ کی لعنت ہے پے درپے(مرقات)