Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
230 - 1040
حدیث نمبر230
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میرے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن خوش تشریف لائے فرمایا اے عائشہ کیا تمہیں خبر نہیں کہ مجزز مدلجی آیا تھا ۱؎ جب اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا حالانکہ ان دونوں پر کمبل تھا کہ انہوں نے سر ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے قدم کھلے ہوئے تھے تو بولا کہ یہ قدم ان کے بعض بعض سے ہیں ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ مدلجی میم کے پیش لام کے کسرہ سے مدلج ایک قبیلہ تھا بنی اسد کا یہ شخص اس قبیلہ سے تھا بڑا قیافہ لگانے والا تھا کہ فلاں کی شکل فلاں سے ملتی جلتی ہے اس لیے اس کا بھائی یا بیٹا ہے کفار عرب اس کے قیافہ پر بڑا اعتقاد رکھتے تھے اس پر احکام نسب صادر کردیا کرتے تھے۔

۲؎ زید ابن اسامہ بہت سیاہ فام تھے اور ان کے والد اسامہ بہت گورے چٹے اس لیے کفار عرب حضرت زید کے نسب پر طعن کرتے تھے کہتے تھے کہ زید اسامہ کے بیٹے نہیں اس قیاف نے باوجود رنگ کے اختلاف کے سب کفار کے روبرو یہ کہہ دیا کہ پاؤں والے باپ بیٹے ہیں تو کفار پر اس کا قول حجت ہوگیا اسی لیے اب کفار کو ان کے نسب میں طعنہ کرنے کا موقعہ نہ رہا اس لیے سرکار خوش ہوئے لہذا اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ شریعت میں قیافہ سے نسب ثابت ہوجاتا ہے یہ ہی امام اعظم کا فرمان ہے کہ قیافہ سے نسب ثابت نہیں ہوتا،خیال رہے کہ حضرت زید کی ماں حبشی سیاہ فام عورت تھیں ان نام برکتہ کنہنہ ام ایمن تھا شریعت میں نجومیوں کے قول ،رویت ہلال، قیافہ کے قول سے نسب ثابت نہیں ہوتے۔اس جگہ مرقات نے قیافہ پر بہت مفصل گفتگو فرمائی۔
Flag Counter