| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ عتبہ ابن ابی وقاص نے ۱؎ اپنے بھائی سعد ابن ابی وقاص سے عہد لیا تھا کہ زمعہ کی لونڈی کا بچہ مجھ سے ہے تو تم اس پر قبضہ کرلینا ۲؎ پھر جب فتح مکہ کا سال ہوا تو اسے سعد نے لے لیا بولے کہ یہ میرا بھتیجا ہے ۳؎ اور عبداللہ ابن زمعہ نے کہا یہ میرابھائی ہے ۴؎ یہ دونوں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف مقدمہ لے گئے ۵؎ سعد نے کہا یارسول اﷲ میرے بھائی نے اس بچہ کے بارے میں مجھ سے عہد کیا تھا اور عبداللہ ابن زمعہ بولے کہ یہ میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے جو اس کے بستر پر پیدا ہوا ۶؎ تب رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عبد اللہ ابن زمعہ وہ بچہ تمہارا ہے ۷؎ بچہ مستحق ولدکا ہوتاہے زانی کے لیے پتھر ۸؎ پھر سودہ بنت زمعہ سے فرمایا کہ اس بچہ سے پردہ کرنا کیونکہ اس کی مشابہت عتبہ سے دیکھی ۹؎ چنانچہ اس لڑکے نے سودہ کو نہ دیکھا حتّٰی کہ اﷲ سے مل گیا ۱۰؎ اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا اے عبداللہ ابن زمعہ وہ تمہارا بھائی ہے اس لیے کہ وہ ان کے باپ کے بستر پر پیدا ہوا تھا۱۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ عتبہ وہ ہی ہے جس نے احد کے دن حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا دانت مبارک شہید کیا تھا،یہ کافر ہی مرا رب کی شان ہے کہ ایک بھائی اول نمبر کا کافر اور دوسرا بھائی حضرت سعد ابن ابی وقاص اعلیٰ درجہ کے مؤمن جن سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم پر میرے ماں باپ قربان پھر ان ہی سعد کا بیٹا عمرو ابن سعد ایسا منحوس جس نے کربلا کے میدان میں اہلِ بیت اطہار پر پہلا تیر چلایا۔ ۲؎ یعنی زمعہ کی لونڈی سے میں نے زنا کیا تھا اس سے بچہ پیدا ہوا تھا وہ بچہ اس ہی زنا کا ہے لہذا وہ بچہ میرا ہے جب تم کو موقعہ ملے اس بچہ کو لے لینا اور اس کی پرورش کرنا کہ تمہارا بھتیجا ہے۔ ۳؎ کیونکہ میرے بھائی عتبہ کے زنا سے پیدا ہوا ہے زمانہ جاہلیت میں زنا سے نسب ثابت مانا جاتا تھا اگر زانی اس نسب کا دعویٰ کرتا۔ ۴؎ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اپنی لونڈیوں سے زنا کرا کر زنا کی آمدنی وصول کرتے تھے اور اس زنا سے جو بچہ پیدا ہوتے ان میں جھگڑے ہوتے تھے۔زانی کہتا تھا کہ میرا بچہ ہے مالک کہتا کہ میرا ،یہ بچہ بھی اس قسم کا تھا سعد کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ بچہ میرے بھائی کے نطفے سے ہے لہذا میرا بھائی ہے عبداللہ ابن زمعہ کا کہنا تھاکہ میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے لہذا میرا بھائی ہے(مرقات) ۵؎ تساوقا سوق سے بنا بمعنی چلانا ’’ہانکنا‘‘ تساوقا تثنیہ ہے کہ اس کا فاعل دونوں ہیں یہاں مراد مقدمہ بارگاہ عدالت تک لے جانا ہے۔ ۶؎ فراش کے لفظی معنے ہیں بستر پھر بستر پر لیٹنے لٹانے والے کو فراش کہنے لگے اصطلاح میں مستحق ولد کو فراش کہا جاتا ہے،خاوند،مولیٰ صاحب فراش ہیں یہاں یہ ہی معنے مراد ہیں۔ ۷؎ یعنی تمہار اباپ شریکا بھائی ہے کہ تمہارے باپ کی مملوکہ لونڈی سے پیدا ہوا۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مالی دعوؤں کی طرح نسب کا دعویٰ بھی ہوسکتا ہے، دوسرے یہ کہ لونڈی اپنے مولیٰ کی فراش ہے جب کہ مولیٰ اس سے وطی کرے کہ اس کا بچہ مولیٰ کا مانا جائے گا۔تیسرے یہ کہ جب بچہ مولیٰ کا ہوسکتا ہو تو اگرچہ لونڈی سے صحبت کسی دوسرے نے کی ہو مگر بچہ مولیٰ کا ہوگا جب مولیٰ اس کا دعویٰ کرے،چوتھے یہ کہ نسب میں وارث کا اقرار مولی کے اقرار کی طرح ہے۔خیال رہے کہ اگر خاوند یا مولی مشرق میں ہو اور بیوی یا لونڈی مغرب میں،اور کبھی خاوند بیوی کے پاس نہ آیا ہو،بیوی خاوند کے پاس نہ گئی ہو اور بچہ پیدا ہوجائے خاوند یا مولی کہے کہ یہ بچہ میرا ہے تو امام شافعی و مالک کے ہاں اس کی بات نہ مانی جائے گی یہاں اس نسب کا امکان نہیں مگرامام اعظم کے ہاں اس کا دعویٰ قبول ہوگا اور بچہ اسی کا ہوگا کیونکہ ممکن ہے کہ وہ مرد یا عورت ولی اﷲ ہو بطور کرامت ان کا قرب و صحبت واقع ہو گئی ہو کرامات اولیاء برحق ہیں۔(مرقات)علامہ شامی نے بھی مسئلہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ معلوم ہوا کہ حضرات اولیاء اﷲ عالم کی سیر کرسکتے ہیں دور کی جگہ حاضر و ناظر ہوسکتے ہیں ہم نے بھی یہ مسئلہ جاء الحق بحث حاضر و ناضر میں بیان کیا۔ ۸؎ یعنی اسلام میں زانی سے نسب ثابت نہیں بلکہ مسلمان محصن زانی سنگسار کیے جانے کے لائق ہے لہذا حدیث پر یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عتبہ ابن ابی وقاص کو یا اس لونڈی کو سنگسار کیوں نہ کیا ؟ ۹؎ ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اس فیصلہ کی بنا پر یہ بچہ حضرت سودہ کا علاتی بھائی ہوا اور بھائی سے پردہ نہیں یہ ہے فتویٰ مگر تقویٰ وہ ہے جو اس جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس بچہ کی شکل و شباہت عتبہ سے ملتی جلتی ہے احتمال یہ ہے کہ عتبہ کا بچہ ہو لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ اے سودہ تم اس بچہ سے پردہ کرو کہ شاید یہ تمہارا اجنبی ہو۔ خیال رہے کہ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا حرامی بچہ زانی باپ کی میراث نہیں پاتا مگر حرمت زنا سے بھی آجاتی ہے کہ زانی پر مزنیہ عورت کی اولاد اس کی ماں نانی وغیرہ حرام ہوجاتی ہے مگر امام شافعی و مالک کے ہاں زنا سے حرمت بھی نہیں آتی زانی شخص مزنیہ عورت کی ماں وغیرہ سے نکاح کرسکتا ہے۔(مرقات)بعض شوافع کے ہاں تو خود زنا کی اس بچی سے بھی نکاح درست ہے جوا س کے نطفہ سے پیدا ہوئی۔(مرقات) ۱۰؎ اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ وہ بچہ پہلے فوت ہوا حضرت سودہ بعد میں اس کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کے مرتے دم تک نہ اس نے بی بی سودہ کو دیکھا نہ بی بی سودہ نے اس کو،لہذا حدیث واضح ہے۔ ۱۱؎ یہ کلام راوی کا ہے نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اسی لیے ابیہ غائب کی ضمیر وارد ہوئی ابیک مخاطب کی ضمیر نہ آئی۔خیال رہے کہ لونڈی کا بچہ مولیٰ سے جب مانا جاتا ہے جب کہ مولیٰ اس بچہ کا دعوی کرے صرف وطی کے اقرار سے نسب ثابت نہ ہونا یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے۔حضرت عمر،زید ابن ثابت کا یہ ہی قول ہے مگر امام شافعی کے ہاں صرف اقرار وطی سے نسب ثابت ہوجاتا ہے اگر مولیٰ عزل کا مدعی ہو۔(مرقات)