Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
228 - 1040
حدیث نمبر 228
روایت ہے ان ہی سے کہ ایک بدوی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میری بیوی نے سیاہ لڑکا جنا اور میں نے اس کا انکار کردیا ۱؎ تو اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیاتیرے پاس اونٹ ہیں بولا ہاں فرمایا ان کے رنگ کیا ہیں بولا سرخ فرمایا کیا ان میں کوئی چتکبرہ بھی ہے بولا اس میں چتکبرہ ہے ۲؎ فرمایاا سے تو کہاں سے دیکھتا ہے کہ یہ آیا۳؎ بولا کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ۴؎ فرمایا تو شاید اسے بھی رگ نے کھینچ لیا ۵؎ اور اس نے اپنے سے انکار کی اجازت نہ دی ۶؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ انکار کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں گورا ہوں میرا بچہ کالا کیسے ہوسکتا ہے اس لیے میں نے کہہ دیا کہ یہ بچہ میرا ہے ہی نہیں میری بیوی نے کسی کالے آدمی سے زنا کرایا ہوگا اس کا یہ بچہ ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہاں انکار سے مراد دل سے انکار کرنا ہے،زبانی انکار کاارادہ کرنا اگر زبان سے انکار کردیتا تو لعان کرنا پڑتا۔

۲؎ سفید و سیاہ دھبے والے کو چتکبرہ کہتے ہیں سرخ اونٹ رفتار اور طاقت میں بہت اچھا ہوتا ہے مگر چتکبرہ اونٹ کا گوشت بہت نفیس ہوتا ہے اہل عرب سرخ اونٹ بہت پسند کرتے ہیں چتکبرے کو اچھا نہیں سمجھتے۔(مرقات)مطلب یہ ہے کہ ان سرخ اونٹوں سے کوئی اونٹ چتکبرہ بھی پیدا ہوا ہے وہ بولا ہاں کہ ماں باپ سرخ ہیں اور ان کا بچہ چتکبرہ۔

۳؎ جاء کا فاعل سرخ اونٹ ہیں اور ھا کا مرجع چتکبرہ رنگ والا بچہ یعنی سرخ اونٹ چتکبرہ بچہ کہاں سے لے آئے وہاں بچہ کا رنگ ماں باپ کے رنگ کے خلاف کیوں ہوگیا۔

۴؎ یعنی اس بچہ کے دادا پر دادا،نانا پر نانا میں کوئی نر یا مادہ اونٹ چتکبرہ گزرا ہوگا وہ دور والا رنگ اس بچہ میں آگیا ہوگا۔مرقات نے فرمایا یہ لفظ عرق درخت کی جڑ کی رگوں سے ماخوذ ہے جو دور تک زمین میں پھیلی ہوتی ہیں،جیسے ان جڑ کی رگوں کا اثر درخت میں پہنچتا ہے ایسے ہی آباء واجداد کے رنگ بیماریاں اولاد میں پہنچ سکتی ہیں اس بدوی نے بہت تحقیقی بات کہی۔

۵؎ یعنی یہ ہی احتمال اس بچہ میں بھی ہے کہ تیرے باپ دادوں میں کوئی سیاہ فام گزرا ہو گا جس کا اثر اس بچہ میں آگیا ہوگا جو تاویل تو اونٹ کے بچہ میں کرتا ہے آدمی کے بچہ میں کیوں نہیں کرتا سبحان اﷲ کیا حکیمانہ جواب ہے۔خیال رہے کہ بطور الزام یہ جواب دیا گیا ہے ورنہ بچہ کے رنگ روپ میں یہ ضروری نہیں کہ اس کے باپ دادوں کا اثر ہی آئے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سارے اصول گورے بچہ کالا اور کبھی سارے اصول کالے بچہ گورا یہ تو رب کی قدرت ہے جیسے چاہے بنا دے۔

۶؎ مقصد یہ ہے کہ رنگ روپ وغیرہ علامات ضعیفہ ہیں ان وجوہ سے بچہ کے نسب کا انکار نہ کرنا چاہیے کہ ثبوت زنا قوی علامات سے ہوسکتا ہے مثلًا کوئی عورت نکاح کے پانچ ماہ بعد بچہ جن دے یا جس کا خاوند پردیس ہی میں ہے اور عورت اقبالی بچے جنے یا خاوند نے عرصہ سے صحبت نہ کی ہو مگر بچہ پیدا ہوجائے ان صورت میں انکار کی گنجائش قوی ہے شریک ابن سحماء کی حدیث میں جو گزرا کہ اگر بچہ اسی شکل کا ہے تو وہ غیر باپ کا ہوگا،وہاں رنگت و حلیہ سے زنا ثابت نہ فرمایا گیا تھا نہ اس کے رنگ پر زنا کے احکام جاری کیے گئے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لعان کے لیے صریحی انکار اولاد ضروری ہے اس بدوی نے صاف صاف انکار نہ کیا تھا جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔
Flag Counter