۱؎ کیونکہ مؤمن اخلاق الٰہی سے موصوف ہوتا ہے معلوم ہوا کہ حیاء و غیرت صفات الہیہ سے ہے،جسے یہ نعمت مل گئی اسے سب کچھ مل گیا اﷲ تعالٰی کی غیرت فرمانے کے کیا معنی ہیں اس کے لیے ہماری تفسیر نعیمی ہیں آیت"اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحۡیٖۤ اَنۡ یَّضْرِبَ"کی تفسیر ملاحظہ فرمایئے۔
۲؎ یعنی بندہ گناہ کرتا ہے رب کو اس سے غیرت آتی ہے جیسے غلام کی بری حرکتوں سے مولیٰ کو غیرت آتی ہے لہذا بندہ ہرگز گناہ پر دلیری نہ کرے۔یہ حدیث باب اللعان میں اس لیے لائے کہ لعان میں زنا کا الزام ہی تو ہوتا ہے اور زنا کرنا بھی غیرت کی چیز ہے اور زنا کی تہمت لگانا بھی شرم کی بات لہذا کوئی خاوند اپنی بیوی کو زنا کی جھوٹی تہمت نہ لگائے۔