| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ہلال ابن امیہ نے ۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نزدیک اپنی بیوی کو شریک ابن سحماء سے تہمت لگائی ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا گواہ لاؤ یا تمہاری پیٹھ میں سزا ہے ۳؎ وہ بولے یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب ہم میں سے کوئی اپنی بیوی پر کسی مرد کو دیکھے تو گواہ ڈھونڈتا پھرے ۴؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرمانے لگے گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ میں سزا ہوگی ۵؎ ہلال بولے اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں سچا ہوں تو اﷲ تعالٰی ضرور وہ آیات اتارے گا جو میری پیٹھ کو سزا سے بچالیں گی ۶؎ اتنے میں جبرئیل اترے اور آپ پر یہ آیت اتاری ۷؎ اور وہ لوگ جو الزام لگائیں اپنی بیویوں کو،پھر پڑھی حتی کہ ان کان من الصادقین تک پہنچ گئے پھر ہلال آئے گواہی دی۸؎ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ یقینًا اﷲ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرلے گا۹؎ پھر عورت کھڑی ہوئی پس گواہی دی جب پانچویں پر پہنچی ۱۰؎ تو لوگوں نے اسے ٹھہرالیا اور بولے کہ یہ واجب کرنے والی ہے ۱۱؎ ابن عباس فرماتے ہیں کہ وہ کچھ ٹھہری اور لوٹی حتی کہ ہم نے گمان کر لیا کہ یہ رجوع کرلے گی ۱۲ ؎ پھر بولی میں اپنی قوم کو کبھی رسوا نہ کروں گی پھر گزر گئی ۱۳؎ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے دیکھنا اگر یہ سرمگیں آنکھوں والا بھرے چوتڑوں والا پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ شریک ابن سحماء کا ہے ۱۴؎ پھر وہ ایسا بچہ لائی فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اگر قرآن کا وہ حکم جو گزر گیا نہ ہوتا ۱۵؎ تو میرا اور اس عورت کا کچھ حال ہوتا ۱۶؎(بخاری)
شرح
۱؎ ہلال ابن امیہ وہ ہی صحابی ہیں جو حضرت کعب ابن مالک کے ساتھ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔یہ تین حضرات کعب ابن مالک،ہلال ابن امیہ،مرارہ ابن لوی،ان تین صاحبوں کی توبہ کا ذکر سورہ توبہ میں ہے"وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیۡنَ خُلِّفُوۡا"الایہ۔ ۲؎ حضرت شریک انصار کے حلیف تھے سحماء ان کی والدہ کا نام ہے آپ اپنی ماں کی نسبت سے مشہور ہیں جیسے عبداﷲ ابن ام مکتوم اسلام میں یہ پہلا واقعہ ہوا اور یہ لعن بھی پہلا لعان تھا۔اسی واقعہ پر آیت لعان نازل ہوئی۔ ۳؎ یعنی یا تو چار گواہ عینی پیش کرو جنہوں نے تمہاری بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہو ورنہ تم کو حد قذف اسی۸۰ کوڑے مارے جائیں گے۔ ۴؎ خلاصہ یہ ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی پر کسی کو دیکھے تو اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ چار گواہ جمع کرلے اور انہیں اس حالت کا مشاہدہ کرائے یہ تکلیف طاقت سے زیادہ ہے۔ ۵؎ سرکار عالی کا یہ فرمان قرآن کی اس آیت کی بنا پر ہے کہ زنا کے لیے چار گواہ پیش کیے جائیں،ورنہ الزام لگانے والے کو تہمت کی سزا اسی کوڑے لگائی جائے یہ پابندی اس لیے ہے تاکہ لوگ تہمت زنا میں دلیر نہ ہوجائیں۔چونکہ ابھی لعان کے احکام آئے نہ تھے اس لیے فرمایا گیا۔ ۶؎ یہ ہے مؤمن کی فراست کہ آئندہ آنے والے احکام کے متعلق قسم کھالی کہ ایسے احکام ضرور نازل ہوں گے لطف یہ ہے کہ ان شاءاﷲ بھی نہ کہا یعنی مجھے اپنے رب کی رحمت سے یقین ہے کہ وہ سچے کو تہمت کی سزا نہ لگنے دے گا،مجھے ضرور بچالے گا۔ ۷؎ فنزل کی ف سے معلوم ہوتا ہے کہ ہلال مجلس شریف میں موجود تھے اور دربار عالی گرم تھا کہ آیت لعان نازل ہوگئی حضرت ہلال کا اندازہ سچا ہوگیا کیونکہ ف تعقیب بلا تراخی کے لیے آتی ہے۔ ۸؎ ظاہر یہ ہے کہ جآء سے مراد حضور کی بارگاہ میں قسم کے لیے کھڑا ہونا کیونکہ ہلال وہاں ہی تھے ابھی غائب نہ ہوئے تھے اور ہوسکتا ہے کہ ہلال چلے گئے ہوں اور اس آیت کے نزول پر بلائے گئے ہوں مگر پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں گواہی سے مراد ہلال کا قسم کھانا چونکہ یہ قسم گواہی کے قائم مقام ہوتی ہے اس لیے اس قسم کو گواہی فرمایا قرآن کریم نے بھی اسے گواہی فرمایا۔ ۹؎ اب بھی مستحب یہ ہے کہ حاکم اس قسم کے الفاظ لعان کرنے والوں سے کہے ۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کو لوگوں کے خفیہ حالات پر مطلع فرمایا ہے مگر ساتھ ہی پردہ پوش بنایا ہے اس لیے نہ تو رب تعالٰی نے کوئی آیت اتاری کہ فلاں سچا ہے نہ حضور نے اس کی خبر دی لہذا یہ فرمان پردہ پوشی کی بنا پر ہے نہ کہ بے علمی کی بنا پر کیا تمہیں خبر نہیں کہ عبداللہ ابن حذافہ نے حضور سے پوچھا تھا کہ میرا باپ کون ہے ؟فرمایا حذافہ دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے ؟ فرمایا سالم مولیٰ شیبہ۔(بخاری شریف)اور باپ بیٹا ہونا وہ ہی جان سکتا ہے جو اندرونی حالات سے خبردار ہو لہذا ان کلمات سے حضور کی بے علمی ثابت کرنا سخت غلط ہے۔ ۱۰؎ یعنی چار بار اشہد باﷲ کہہ چکی جب پانچویں کی باری آئی صحابہ کرام نے اسے روک کر یہ تبلیغ کی۔ ۱۱؎ یا سزا کو یا دوزخ کی آگ کو اگر یہ پانچویں قسم تو نہ کھائے تو رجم و سنگسار کی جائے گی اور اگر جھوٹی قسم کھا گئی تو عذاب نار کی مستحق ہوگی لہذا سوچ سمجھ کر قدم اٹھاؤ۔ اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ حضور کو خبر تھی کہ مرد سچا ہے عورت سے خطا ہوئی ہے دیکھو صحابہ کرام نے ہلال کو یہ تبلیغ نہ کی صرف عورت کو کی۔ ۱۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کو بھی علامات سے معلوم ہوچکا تھا کہ ہلال سچے ہیں عورت خطا کار ہے مگر چونکہ اسلام میں ان جیسی علامات کا اعتبار نہیں خصوصًا حدود میں اس لیے ان علامات پر احکام شرعیہ جاری نہیں ہوتے۔ ۱۳؎ یعنی پانچویں قسم بھی کھالی اور چھوڑ دی گئی اس روکنے لوٹنے کے متعلق اس سے کوئی باز پرس نہ کی گئی کہ تو پہلے رکی کیوں تھی۔ ۱۴؎ یعنی حرامی ہے غالبا شریک ابن سحماء اسی شکل کے ہوں گے اور بچہ اکثر باپ کی شکل پر ہوتا ہے۔یہ قاعدہ اکثریہ ہے مگر حضور کے فرمان عالی سے وہ یقینی ہوگیا مگر اس یقین پر شرعی سزا جاری نہیں ہوتی اس لیے عورت سے پھر بھی کچھ نہ کہا گیا۔ ۱۵؎ اس حکم سے مراد لعان کے احکام ہیں جو اس موقعہ پر قرآن کریم میں نازل ہو چکے تھے یعنی اگر یہ احکام لعان نہ آگئے ہوتے اور صرف علامات پر حدود شرعیہ جاری ہوجاتیں تو ہم اس کو سنگسار کردیتے۔ ۱۶؎ کہ ہم اس عورت کو سنگسار کردیتے،خیال رہے کہ حضور نے اس عورت کو ہلال سے علیحدہ کردیا مگر عدت کا خرچہ نہ دلوایا کیونکہ یہ علیحدگی طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے(مرقات)بعض روایات میں ہے کہ یہ بچہ زندہ رہا بعد میں مصر کا حاکم ہوا مگر اپنی ماں کی طرف نسبت کیا جاتا تھا۔(مرقات)مگر بعض روایات میں ہے کہ دو سال کی عمر پا کر وفات ہوگیا۔ واﷲ اعلم! یہ عورت اور شریک بھی برے حال میں مرے(مرقات)خیال رہے کہ لعان کی صورت میں شرعًا کوئی فاسق نہیں کہا جاتا اسی لعان کرنے والے کی گواہی قبول ہے عند اﷲ جو کچھ ہو وہ رب جانے لہذا شرعا ً ان دونوں بلکہ تینوں میں کوئی فاسق نہیں نہ ہلال نہ یہ عورت نہ شریک لہذا یہ مسئلہ بالکل حق ہے کہ صحابہ تمام کے تمام عادل ہیں سب جنتی ہیں۔