| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے لعان والے زوجین سے فرمایا کہ تم دونوں کا حساب اﷲکے ہاں ہے ۱؎ تم میں سے ایک جھوٹا ہے اب تم کو اس عورت پر کوئی حق نہیں آیا ۲؎ عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میرا مال ۳؎ تو فرمایا مال تجھے نہ ملے اگر تو نے اس پر سچ بولا ہے تو مال اس عوض میں رہا کہ تو نے اس کی شرمگاہ میں تصرف کرلیا ۴؎ اور اگر تم نے اس پر جھوٹ باندھا ہے تو یہ تجھ سے بہت بہت دور ہے ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ کہ وہ ہی تم میں سے جھوٹے کو سزا دے گا ہم صرف ظاہر پر عمل کرتے ہیں اگر تم میں سے کسی کا جھوٹ ظاہر نہ ہو تو کسی کو سزا نہیں دیتے۔ ۲؎ اس جملہ کی وجہ سے امام شافعی فرماتے ہیں کہ خود لعان ہی فسخ نکاح ہے حاکم کے فیصلہ پر موقوف نہیں مگر امام اعظم کے ہاں اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری تفریق کے بعد لاعن کا ملا عنہ پر کوئی حق نکاح باقی نہیں رہتا،تاکہ یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہ ہو۔ ۳؎ مالی پوشیدہ فعل کا فاعل ہے یعنی میرا مال کہا گیا مال سے مراد دیا ہوا مال ہے یعنی مہر وہ چاہتے تھے کہ مہر واپس دلایا جائے۔ ۴؎ یعنی تیرا مہر صحبت سے گیا اس سے معلوم ہوا کہ صحبت سے یا خلوت سے مہر مؤکد ہوتا ہے اگر بغیر خلوت طلاق دے دی گئی تو نصف مہر واجب ہوگا اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔ ۵؎ یعنی جب تجھے سچا ہونے پر مال واپس نہ ملا تو جھوٹا ہونے پر تو مل سکتا ہی نہیں۔خیال رہے کہ دوسرا بعد تاکید کے لیے زائد فرمایا گیا یعنی بہت بہت دور ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ملاعنہ عورت کو مہر پورا پورا ملے گا،لعان سے مہر پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔