Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
225 - 1040
حدیث نمبر 225
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا سعد ابن عبادہ نے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا اسے نہ چھوؤں حتی کہ چار گواہ لاؤں تو رسول اﷲ نے فرمایا ہاں ۱؎ بولے ہر گز نہیں قسم اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں تو اسے اس سے پہلے تلوار سے جلد ماردوں ۲؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سنو جو تمہارا یہ سردار کہتا ہے ۳؎ یہ بڑا ہی غیرت مند ہے ۴؎ اور میں اس سے بڑھ کر غیرتمند ہوں اور اﷲ مجھ سے زیادہ غیور ہے۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی ہاں تم اس عورت و مرد سے کچھ تعرض نہ کرو تمہارا صرف یہ کام ہے کہ چار گواہ ان کے زنا پر بنا لو اولًا ہم پر پیش کرو ہم بعد تحقیق انہیں زنا کی سزا دیں گے۔ اس سے معلوم ہو اکہ قصاص،رجم وغیرہ صرف حاکم جاری کرسکتا ہے ہے کسی دوسرے کو حق نہیں کہ خود قانون ہاتھ میں لے کر یہ کام کرے۔

۲؎ اس عرض و معروض میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان عالی کی تردید نہیں ہے بلکہ اپنی انتہائی غیرت کا اظہار ہے کہ ایسی حالت میں مجھ پر غصہ کی وجہ سے ایسے مدہوشی طاری ہوگی کہ مجھے گواہ لانے آدمیوں کو ڈھو نڈنے کا دھیان ہی نہ رہے گا اس جنون میں اسے قتل ہی کردوں گا اسی لیے سرکار عالی نے ان کی عرض کی تردید نہ فرمائی بلکہ تعریف کی۔

 ۳؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں سیدنا ہے یعنی ہمارے سردار کی بات سنو،ہمارے سردار سے مراد ہے ہمارے مقرر کیے ہوئے سردار جیسے بادشاہ کسی امیر کی طرف اشارہ کرکے کہے ہمارا امیر یعنی ہمارا مقرر کردہ امیر سید کم کے معنے بالکل ظاہر ہیں غالبًا انصار سے خطاب ہوگا اور اگر تمام صحابہ سے خطاب ہو تو خصوصی سرداری مراد ہوگی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضرت سعد جناب صدیق و فاروق سے افضل ہوں۔

۴؎ یعنی جو کچھ سعد کہہ رہے ہیں اپنی غیرت کے جوش میں کہہ رہے ہیں نہ کہ ہمارے کلام عالی کی تردید میں اور جوش غیرت سرداری کی بنا پر ہے معلوم ہوا کہ سردار قوم غیرت مند ہی چاہیے۔

۵؎ اس فرمان عالی میں حضرت سعد کی غیرت کی تعریف ہے ان کے اس عمل کی تائید نہیں کیونکہ خود قتل کردینا خلاف حکم شر ع ہے اس کی تائید کیسی جب لفظ غیور اﷲ رسول کی صفت ہو تو اس سے مراد ہوتا ہے زجور سخت روکنے والا یعنی ہم اور رب تعالٰی ان بے حیائیوں کو نہایت سختی سے روکنے والے ہیں،اسی لیے زنا کی سزا ایسی سخت رکھی ہے کہ رب کی پناہ قصاص قتل میں تلوار سے مارا جاتا ہے مگر سزائے زنا میں سنگار کیا جاتا ہے۔
Flag Counter