| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کیا تو وہ مرد الگ ہوگیا اس کے بچہ سے ۱؎ پس جدائی کردی ان کے درمیان ۲؎ اور بچہ کو ماں سے منسوب کیا ۳؎(مسلم،بخاری)اور مسلم،بخاری کی ان کی ہی حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو نصیحت کی اور ڈرایا اور بتایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے ۴؎ پھر عورت کو بلایا اور اسے نصیحت کی ڈرایا اور بتایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے۵؎
شرح
۱؎ اس طرح کہ اپنی بیوی کے بچہ کا اپنے سے انکار کردیا کہہ دیا کہ میرا نہیں بلکہ حرام کا ہے یہ بھی تہمت زنا کی ایک صورت ہے کہ زنا کا الزام نہ لگائے بچے کا انکار کردے۔ ۲؎ لعان کراکر اس طرح کہ پہلے دونوں سے لعان کرایا پھر فسخ نکاح فرمادیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ لعان میں عورت و مرد کی علیحدگی حاکم کے فیصلہ سے ہوگی نہ کہ خاوندکی طلاق سے۔ امام اعظم کا یہ ہی مذہب ہے، امام زفرو امام شافعی کے ہاں خود لعان ہی طلاق یا فسخ نکاح کا سبب ہے لعان کیا تو علیحدگی ہوئی مگر امام اعظم کا قول نہایت قوی ہے اولًا تو اس لیے کہ اگر لعان ہی طلاق ہوتا تو حضور تفریق کیوں کراتے جیسا کہ یہاں فرق سے معلوم ہورہا ہے کہ لعان کے بعد حضور نے علیحدگی کا حکم دیا، دوسرے اس لیے کہ پہلے گزر چکا کہ عویمر نے لعان کے بعد تین طلاقیں دیں اگر لعان سے نکاح ختم ہوچکا تھا تو طلاق سے کیا فائدہ تھا وہ طلاقیں اوریہ تفریق بتارہی ہے کہ لعان فسخ نکاح نہیں۔(مرقات) ۳؎ اس طرح کہ یہ بچہ اس عورت کاکہلایا نہ کہ مرد کا ،نیز اس کا نسب مرد سے ثابت نہ ہوا،نیز اس بچہ کو صرف عورت کی میراث ملی نہ کہ مرد کی لعان کا یہ ہی حکم ہے۔ ۴؎ یہاں دنیا کی سزا سے مراد حد قذف تہمت کی سزا ہے یعنی اسی کوڑے یعنی اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اقرار کرلے اسی۸۰ کوڑے کھا کر تیری رہائی ہو جائے گی،آخرت کا عذاب رسوائی و دوزخ کی آگ بہت سخت ہے۔ ۵؎ یہاں عذاب سے مراد رجم یعنی سنگسار کرنا اور دنیاکی بدنامی ہے کہ اگر عورت زنا کا اقرار کرلے تو رجم کی جائے گی دنیا اسے برا کہے گی مگر یہ تکلیف چند منٹ کی ہے آخرت میں رسوائی اور دوزخ کا عذاب بہت سخت ہے عقلمند وہ ہے جو دشوار سزاکے مقابل آسان کو اختیار کرے۔