Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
221 - 1040
باب اللعان

لعان کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ لعان باب مفاعلہ کا مصدر ہے اس کا مادہ لعن ہے بمعنی لعنت یعنی رحمت الٰہی سے دور ہوجانے کی بددعا۔ لعان کے معنے ہیں ایک دوسرے پر لعنت کرنا۔ شریعت میں لعان یہ ہے کہ کوئی خاوند اپنی بیوی کو ایسی تہمت لگائے کہ اگر اجنبی عورت کو لگاتا تو حد قذف واجب ہوجاتی اس پر حاکم مجمع کے سامنے ان دونوں خاوند و بیوی کو کھڑا کرکے چار چار قسمیں ایک ایک لعنت یا غضب کی بددعا کرائے پھر ان دونوں کو ہمیشہ کے لیے جدا کردے کہ پھر یہ عور ت اس مرد کے نکاح میں آ بھی نہ سکے مگر لعان توڑنے پر کہ مرد کہے میں نے جھوٹی تہمت لگائی تھی اس پر اسے تہمت کی سزا اسی۸۰ کوڑے لگائے جائیں پھر نکاح میں آئے ،ہمارے امام صاحب کے ہاں گوائیاں ہیں جن کی تاکید قسم سے کی گئی ہے۔امام شافعی کے ہاں لعان قسمیں ہیں جن کی تاکید گواہیوں سے کی گئی ہے لہذا امام صاحب کے ہاں لعان وہ ہی کرسکتا ہے کہ جس کی گواہی قبول ہوسکتی ہے جو گواہی کا اہل نہیں وہ لعان نہیں کرسکتا،اس کی تحقیق کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے۔ خیال رہے کہ کسی گنہگار مسلمان کا نام لے کر اس پر لعنت کرنا جائز نہیں خواہ کیسا ہی گنہگار ہو سوائے لعان کے،لہذا یہ نہیں کہہ سکتے کہ یزید یا حجا ج یا فلاں زانی قاتل پر لعنت ہاں یہ کہہ سکتے ہیں حضرت حسین کے قاتل یا قتل سے راضی ہونے والے پر لعنت ہے کہ یہ لعنت بالوصف ہے دیکھو شامی باب اللعان۔
حدیث نمبر 221
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے فرماتے ہیں کہ عویمر عجلانی نے عرض کیا ۱؎ یارسول اﷲ فرمایئے تو ایک شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے ۲؎ کیا وہ اسے قتل کردے تو مسلمان اسے قتل کردیں گے ۳؎ کیا کرے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تیرے اور تیری بیوی کے متعلق آیت نازل کر دی گئی ۴؎ تم جاؤ اسے لے آؤ ۵؎ سہل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے مسجد میں لعان لیا ۶؎ میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب وہ زوجین فارغ ہوچکے تو عویمر بولے کہ میں نے اس پر جھوٹ ہی لگایا یارسول اﷲ ۷؎ اگر اس کو روک رکھوں چنانچہ اسے تین طلاقیں دے دیں ۸؎ پھر رسول اﷲ نے فرمایا لوگو خیال رکھنا اگر وہ عورت جنے بچہ سیاہ رنگ بڑی آنکھ والا بڑے سرین والا بڑی پنڈلیانوالہ تو میں عویمر کو اس عورت پر سچا ہی گمان کرتا ہوں ۹؎ اور اگر وہ عورت بچہ جنے سرخ رنگ والا گویا وہ بامنی ہے ۱۰؎ تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر نے اس پر جھوٹ ہی بولا ۱۱؎ پھر اس عورت نے بچہ اس صفت پر جنا جس پر رسول اﷲ نے عویمر کو سچا فرمایا تھا پھر وہ بچہ بعد میں اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۱۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ سہل ابن سعد کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں، آپ مدینہ منورہ میں آخری صحابی ہیں جو تمام صحابہ سے آخر میں فوت ہوئے،ان کی وفات پر مدینہ سے صحابہ کا دور ختم ہوا،عویمر صحابی ہیں عجلان قبیلہ سے ہیں عجلان انصار کا ایک قبیلہ ہے عجلان ابن زید انصاری کی اولاد۔(اشعہ،مرقات)

۲؎ یا زنا کرتے ہوئے پائے یا علامات سے معلوم ہو کہ اس نے زنا کیا ہے فارغ ہو کر بیٹھا ہے۔

۳؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں یقتلون ی سے ہے یعنی مقتول کے وارث اسے قتل کردیں گے بعض میں تقتلون ت سے ہے یعنی اے محبوب پاک آپ اور آپ کے صحابہ اسے قصاصًا قتل کردیں گے۔علماء فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کو اپنی بیوی سے زنا کرتے دیکھے اور اسے قتل کردے تو اسے بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا،ہاں اگر اس زنا پر چار گواہ قائم ہوجائیں اور زانی محصن بھی ہو تو اس قاتل پر قصاص نہیں،یا مقتول کے ولی اس زنا کا اقرار کرلیں تب بھی قصاص نہیں یہ شرعی حکم ہے عند اﷲ اس قاتل پر کوئی گناہ نہیں،عویمر نے صاف نہ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو زنا کراتے دیکھا بلکہ اشارۃً اگر مگر سے سوال کیا تاکہ حد قذف ان پر جاری نہ ہوجائے۔

۴؎ آیت کریمہ یہ ہے"وَالَّذِیۡنَ یَرْمُوۡنَ اَزْوٰجَہُمْ وَلَمْ یَکُنۡ لَّہُمْ شُہَدَآءُ"یہ آیت شعبان     ۹ھ؁ میں نازل ہوئی،یا تو عویمر کے متعلق ہی نازل ہوئی یا ہلال ابن امیہ کے متعلق اتری مگر حق یہ ہے کہ ان دونوں کے واقعات قریب قریب ہوئے ان دونوں پر آیت اتری،پہلے ہلال ابن امیہ نے لعان کیا پھر عویمر نے لہذا یہ درست ہے کہ اسلام میں پہلا لعان ہلال ابن امیہ نے کیا درست ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان کہ تیرے متعلق یہ آیت آگئی یہ بھی درست ہے احادیث میں تعارض نہیں۔

۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ لعان کے وقت دونوں خاوند و بیوی کا حاکم کی کچہری میں حاضر ہونا ضروری ہے بلکہ مسلمانوں کے مجمع میں حاکم کے سامنے لعان چاہیے۔

۶؎ بعد نماز جب مسلمان جمع تھے اس زمانہ پاک میں مسجد ہی کچہری تھی۔

۷؎ یعنی اب میرا اس بیوی کو اپنے پاس رکھنا اپنی تکذیب ہے لہذا میں اسے علیحدہ کرتا ہوں۔

۸؎ اس حدیث کی بنا پر بعض نے فرمایا کہ لعان خودطلاق نہیں،بلکہ اس کے بعد طلاق دینی چاہیے،بعض مالکی حضرات نے فرمایا کہ لعان خود ہی طلاق ہے مگر حاکم کے فیصلہ کے بعد ابھی چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ نہ فرمایا تھا اس لیے ان کی طلاق درست ہوگئی یہ حضرات اس سے ثابت کرتے ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دے دینا مکروہ بھی نہیں کیونکہ عویمر نے یکدم تین طلاق دیں سرکار نے منع نہ فرمایا مگر حق یہ ہے کہ بعد لعان حاکم کا فیصلہ نکاح ختم کردیتاہے طلاق کی ضرورت ہی نہیں عویمر کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا اس لیے انہوں نے طلاقیں دیں۔ لعان والی عورت لعان کے بعد حاکم کے فیصلہ سے بالکل نکاح سے خارج ہوجاتی ہے طلاق کی محل نہیں رہتی اور تا قیام لعان نکاح میں نہیں آسکتی، چونکہ دار قطنی نے بروایت حضرت عمر مرفوعًا حدیث نقل کی کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے لعان والے زوجین جدا ہوچکنے کے بعد کبھی جمع نہیں ہوسکتے صاحب تنقیح نے فرمایا کہ اس کی اسناد جید ہے المتلاعنان لا یجتمعان بھی وارد ہے۔(فتح القدیر و مرقات)یہاں مرقات نے اس مسئلہ پر بہت سی احادیث پیش فرمائیں کہ لعان خود ہی تفریق ہے مگر حضرت امام اعظم و صاحبین و ابن مبارک کا قول یہ ہے کہ لعان کے بعد حاکم کی تفریق سے نکاح ختم ہوجاتا ہے لعان خود فسخ نہیں۔

۹؎ کیونکہ جس مرد سے الزام زنا لگایا گیا تھا وہ اسی شکل و صورت کا تھا اور اکثر بچہ با پ کے ہم شکل ہوتا ہے چونکہ یہ ہم شکلی یقینی نہیں اکثری ہے اس لیے اس طرح ارشاد فرمایا کہ ہمارا خیال ہے کہ عویمر کا الزام درست ہے۔

۱۰؎ بامنی ایک چھوٹا سا کیڑا ہے جو سرخ رنگ سانپ کی طرح ہوتا ہے اسے اردو میں سانپ کی خالہ بھی کہتے ہیں بامنی میں نے بھی بارہا دیکھا ہے۔

۱۱؎ کیونکہ عویمر خود پتلے سرخ رنگ والے تھے یہ حکم بھی تخمینی ہے۔

۱۲؎ لعان کا یہ بھی حکم ہے کہ لعان کا بچہ باپ کی میراث نہیں پاتا صرف ماں کی طرف منسوب ہوتا ہے۔خیال رہے کہ یہ واقعہ اس عقیدے کے خلاف نہیں کہ تمام صحابہ عادل ہیں کوئی فاسق نہیں کیونکہ لعان میں کسی کو فاسق نہیں کہاجاسکتا،معاملہ مشکوک رہتا ہے نیز حضرات صحابہ سے گناہ سرزد ہوئے ہیں مگر کوئی گناہ پر قائم نہیں رہا سب کو بعد میں توبہ کی توفیق ملی ان کی عدالت پر قرآن کریم گواہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیافہ یعنی بچہ کی ہم شکلی پر احکام مرتبہ نہیں ہوتے اس کی بحث آگے ہوگی۔ان شاءاللہ!
Flag Counter