روایت ہے حضرت معاویہ ابن حکم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میری لونڈی میری بکریاں چراتی تھی ۲؎ میں اس کے پاس گیا تو ایک بکری گم پائی میں نے اسے بکری کے متعلق پوچھا تو وہ بولی کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ۳؎ میں اس پر بہت غصے ہوا میں آدمی ہوں میں نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا اور مجھ پر ایک غلام آزاد کرنا ہے ۴؎ کیا اسے آزاد کردوں تو اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲ کہاں ہے وہ بولی آسمان میں ۵؎ پھر فرمایا میں کون ہوں،بولی آپ اﷲ کے رسول ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے آزاد کردو ۶؎(مالک)اور مسلم کی روایت میں ہے فرماتے ہیں میری ایک لونڈی تھی جو میری بکریاں احد اور جوانیہ کی طرف چراتی تھی ۷؎ ایک دن میں اچانک وہاں گیا تو بھیڑیا ہماری بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا تھا۸؎ اور میں اولاد آدم سے ایک شخص ہوں جیسے سب غمگین ہوتے ہیں میں بھی غمگین ہوتا ہوں لیکن میں نے اسے صرف ایک تھپڑ مار دیا ۹؎ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے مجھ پر بڑا جرم قرار دیا۱۰؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا میں اسے آزاد نہ کردوں ۱۱؎ فرمایا اسے میرے پاس لاؤ تو میں اسے لایا تو آپ نے فرمایا اﷲ کہاں ہے وہ بولی آسمان میں فرمایا میں کون ہوں بولی آپ رسول اﷲہیں فرمایا اسے آزاد کردو یہ مؤمنہ ہے ۱۲؎
۱؎ آپ سلمی ہیں صحابی ہیں مدینہ منورہ میں رہنے سہنے لگے تھے، ۱۱۷ھ میں وصال ہوا۔(کمال و مرقات)
۲؎ یعنی لونڈی بھی میری تھی بکریاں بھی میری ہی چراتی تھیں کسی اور کی مزدوری نہ کرتی تھی لونڈی پر پردہ لازم نہیں کیونکہ وہ پردے میں رہ کر مولے کی خدمت نہیں کرسکتی۔
۳؎ یعنی اس نے بڑا قصور یہ کیا مجھے اس واقعہ کی خبر نہ دی بکری بھیڑیا لے گیا میرے پوچھنے پر بتایا ورنہ مجھے اتنا غصہ نہ آتا۔
۴؎ اس مارنے کی وجہ سے نہیں کسی اور وجہ سے کفارہ واجب ہوچکا ہے جس میں غلام آزاد کرنا مجھ پر لازم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی اپنے غلام کو مار دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ا سے آزاد کردے یہ حکم صرف استحبابی ہے یہاں یہ کفارہ مراد نہیں جیسا کہ علیّ سے معلوم ہورہا ہے۔ احادیث میں ہے کہ یہ لونڈی گونگی تھی یہ تمام گفتگو اس نے اشارہ سے کی۔ اس روایت کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ کفارہ میں گونگے غلام کا آزاد کرنا جائز ہے،خیال رہے کہ عربی میں اشارۃً کلام کرنے کو بھی کہنا کہہ دیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَقُوۡلِیۡۤ اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنۡسِیًّا"یعنی اے مریم اشارہ سے کہہ دینا کہ میرا چپ کا روزہ ہے میں کسی سے کلام نہ کروں گی۔
۵؎ یہ سوال و جواب اﷲ تعالٰی کی جگہ کے متعلق نہیں وہ تو جگہ میں رہنے سے پاک ہے بلکہ سرکار نے اس چیز کی تحقیق فرمائی کہ یہ لونڈی مشرکہ نہیں بتوں کو خدا نہیں کہتی،اگر مشرکہ ہوتی تو ان ہی بتوں کو الہ کہہ دیتی۔
۶؎ کیونکہ یہ مؤمنہ ہے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے۔اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ کفارات وغیرہ میں صرف مؤمنہ غلام لونڈی آزاد ہوسکتی ہے،امام اعظم کے ہاں ہر غلام آزاد کیا جاسکتا ہے خواہ مؤمن ہو یا کافر،سرکار عالی کا یہ امتحان لے کر فرمانا کہ اسے آزاد کردو بیان استحباب کے لیے ہے یعنی مؤمن غلام کا آزاد کرنا کافر غلام آزاد کرنے سے افضل ہے۔امام اعظم کے بقیہ دلائل پہلے عرض کیے جاچکے ہیں کہ قرآن کریم نے کفارہ قتل کے سواء کسی کفارہ میں مؤمن غلام کی قید نہ لگائی اور قرآن شریف کے مطلق احکام کو ان کے اطلاق پر رکھنا ضروری ہے۔
۷؎ احد مدینہ منورہ کا مشہور پہاڑ ہے جو مدینہ پاک سے تین میل فاصلہ پر ہے اور جوانیہ احد کے قریب جنگل کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے جانب شمال ہے احد سے متصل۔
۸؎ میرے سامنے نہ لے گیا بلکہ بکریاں شمار کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک بکری کم ہے،لونڈی سے پوچھنے پر پتہ لگا کہ بھیڑیا لے گیا لہذا یہ روایت گزشتہ روایت کے خلاف نہیں۔
۹؎ لکن سے پہلے ایک مختصر سی عبارت پوشیدہ ہے یعنی دل تو چاہا کہ لونڈی کو سخت سزا دوں کیونکہ میرا بہت نقصان ہوگیا تھا مگر میں نے ایک تھپڑ مارنے پر ہی کفایت کی۔
۱۰؎ یعنی آپ نے فرمایا کہ تم نے بڑا گناہ کیا کیونکہ بے قصور لونڈی کو تھپڑ مار دیا یہ حق العبد ہے جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہوسکتا،مگر قصاص دینے کا حکم نہ فرمایا کیونکہ مولے سے لونڈی کا قصاص نہیں لیا جاتا۔اس سے معلوم ہوا کہ بے قصور کو سزا دینا گناہ ہے اگرچہ استاذ یا پیر یا مولے یا آقا ہی کیوں نہ دے اس سے موجودہ زمانہ کے حکام آقاؤں کو عبرت پکڑنی چاہیے۔
۱۱؎ تاکہ یہ آزاد کرنا میرے اس گناہ کا کفارہ بھی ہوجائے اور میرے ذمہ ایک دوسرا کفارہ ہے جس میں غلام آزاد کرنا مجھ پر واجب ہے وہ بھی ادا ہوجائے لہذا یہ روایت گزشتہ روایت کے خلاف نہیں یہ مطلق گزشتہ مقید پر محمول کیا جائے گا۔(مرقات)خیال رہے کہ غلام کو بلا قصور مار دینے پر اس کا آزاد کرنا واجب نہیں،نہ کوئی اس کا کفارہ ہے صرف مستحب ہے لہذا اس روایت پر یہ اعتراض نہیں کہ دو کفاروں میں ایک غلام کیسے آزاد کرایا گیا۔(مرقات)
۱۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان اجمالی معتبر ہے،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس لونڈی سے ایمانیات کی تفصیل نہ پوچھی صرف توحید و رسالت کے اقرار کو تمام ایمانیات کا اقرار مانا۔