| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے ابو سلمہ سے کہ حضرت سلمان ابن صخر جنہیں سلمہ ابن صخر بیاضی کہا جاتا ہے ۱؎ انہوں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر اپنی ماں کی پشت کی طرح کرلیا ۲؎ یہاں تک کہ رمضان گزرگیا پھر جب آدھا رمضان گزر ا تو ایک رات ان سے صحبت کرلی۳؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس کا ذکر حضور سے کیا ان سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا غلام آزاد کرو ۴؎ عرض کیا میں غلام پاتا نہیں ۵؎ فرمایا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو ۶؎ عرض کیا مجھ میں طاقت نہیں فرمایا ۷؎ ساٹھ مسکینوں کو کھانا دو ۸؎ عرض کیا ہے نہیں تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فروہ ابن عمروسے فرمایا ۹؎ کہ انہیں یہ ٹوکری دے دو وہ بڑی زنبیل ہے جس میں پندرہ یا سولہ صاع سماتے ہیں تاکہ وہ ساٹھ مسکینوں کوکھلا دیں ۱۰؎(ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ، دارمی)
شرح
۱؎ ابو سلمہ تابعین میں سے ہیں ۷۲ سال عمر پائی، ۹۷ھ میں وفات ہوئی،حضرت عبداﷲ ابن عباس و ابوہریرہ و ابن عمر وغیرہم سے ملاقات ہے،ابواسخہ کا نام سلیمان بیاضہ ابن عامر کی اولاد سے ہیں،صحابی ہیں،خوفِ خدا میں بہت گریہ و زاری کرتے تھے۔ ۲؎ یعنی انہوں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا یعنی یہ کہا کہ تو مجھ پر رمضان گزرنے پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے یعنی حرام ہے،ظہار کے معنے ہیں اپنی بیوی کو اپنی ماں بہن وغیرہ دائمی محرمات کے کسی عضو،شانے سے تشبیہ دینا۔ظہر سے بنا بمعنی پشت،اس میں دو شرطیں ہیں: ایک عورت کا اپنی بیوی ہونا لہذا لونڈی سے ظہار نہیں،دوسرے خاوند کا اہل کفارہ ہونا لہذا بچہ دیوانہ کا ظہار درست نہیں، ظہار کا حکم یہ ہے کہ ادائے کفارہ تک عورت حرام رہتی ہے۔ ۳؎ یعنی قسم توڑ دی اگر یہ حضرت ماہ رمضان گزر جانے دیتے تو کفارہ واجب نہ ہوتا کہ وقتی ظہار کا یہ ہی حکم ہے دائمی ظہار میں جب بھی صحبت کرے کفارہ واجب ہے۔ ۴؎ معلوم ہوا کہ کفارہ ظہار میں ترتیب یہ ہے کہ مظاہر غلام آزاد کرے اگر اس پر قادر نہ ہو تو روزے رکھے اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے۔رقبہ مطلق فرمانے سے معلوم ہوا کہ کفارہ ظہار میں ہر قسم کا غلام آزاد کیاجاسکتا ہے،مومن ہو یا کافر۔ ۵؎ یعنی میرے پاس نہ غلام ہے نہ اس کی قیمت کہ خرید کر آزاد کروں۔ ۶؎ اس طرح کہ لگاتار ساٹھ روزے رکھے جاؤ اور دوران روزے میں اس بیوی سے صحبت ہرگز نہ کرو رب تعالٰی فرماتاہے:"مِنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا"۔ ۷؎ ضعف بدن کی وجہ سے اتنے روزے لگاتار نہیں رکھ سکتا یا ان دو ماہ میں عورت سے علیحدہ نہیں رہ سکتا جیسا کہ بعض قوی جوانوں کا حال ہوتا ہے۔(مرقات) ۸؎ روزانہ ایک مسکین کو تاکہ کھانا دینا دو ماہ میں پورا ہو۔ ۹؎ بعض نسخوں میں عروہ ابن عمر ہے یہ کاتب کی غلطی ہے فروہ ابن عمرو بیاضی انصاری ہیں بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ ۱۰؎ خیال رہے کہ کفارہ ظہار میں یا تیس صاع گندم ساٹھ مسکینوں کو دیا جائے فی مسکین آدھا صاع قریبًا سوا دو سیر یا ساٹھ صاع جو کھجوریں وغیرہ فی مسکین ایک صاع قریبًا ساڑھے چار سیر یہاں پندرہ سولہ صاع کھجوریں دے دینے کا حکم دیا،یہ حضرت سلیمان کی خصوصیات سے ہے جیسے ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو چھ ماہ کی بکری کی قربانی کی اجازت دے دی گئی تھی حالانکہ ایک سالہ بکری کی قربانی ہوسکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث اس پابندی سے پہلے کی ہو۔(اشعہ)یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بطور امداد ان کو یہ مقدار عطا ہوئی باقی ان کے اپنے ذمہ رہی۔(مرقات)مگر پہلی توجیہ نہایت قوی ہے