۱؎ مگر سلیمان ابن یسار نے سلمہ ابن صخربیاضی سے ملاقات نہیں کی ہے لہذا اس اسناد میں یہ حدیث مرسل کی طرح ہوگی کوئی راوی درمیان میں رہ گیا ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی یہ واقعہ کی نصف رمضان کو ہی صحبت کر بیٹھا یا یہ کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ میں ساٹھ روزے اور دو ماہ صحبت سے خالی نہیں رکھ سکتا اسی لیے ہوا کہ مجھے بمقابلہ دوسرے مردوں کے شہوت اور طاقت جماع بہت زیادہ تھی بغیر بیوی رہ نہ سکتا تھا۔
۳؎ یہ حدیث گزشتہ اجمال کی تفصیل ہے وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے فی فقیر ایک صاع چھوارے دینا لازم ہے یہ ہی فقہاء فرماتے ہیں پھر پندرہ سولہ صاع دلوادینا ان کی خصوصیت ہے،قانون اور ہے کرم خسروانہ کچھ اور۔