۱؎ محلل سے مراد دوسرا خاوند ہے اور محلل لہ سے مراد پہلا خاوند جس نے تین طلاقیں دیں اگر حلالہ متعہ یا عارضی چند روزہ نکاح کے ذریعہ کیا گیا تو حلالہ درست ہی نہ ہوا کہ یہ نکاح ہی باطل ہے حلالہ میں نکاح صحیح ضروری ہے اور اگر نکاح درست کیا گیا مگر ارادہ حلالہ کا تھا تو حلالہ ہوجائے گا مگر دونوں خاوند بے حیا ہیں اس لیے لعنت فرمائی،اگر حلالہ درست ہی نہ ہوتا تو ان خاوندوں کو محلل اور محلل لہ کیوں کہا جاتا۔بعض احادیث میں یہ ہے کہ حلالہ کرنے والا مانگے ہوئے بکرے کی طرح ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ بعض سخت ضرورتوں میں حلالہ کرنا بہتر بھی ہوجاتا ہے یہاں بغیر ضرورت حلالہ والوں پر لعنت فرمائی گئی ہے یا لعنت جب ہے جب کہ اجرت پر حلالہ کرایا جائے۔فتح القدیر میں ہے کہ اگر تین طلاق والی عورت بغیر ولی کی اجازت غیر کفو میں نکاح کرے تو حلالہ درست نہ ہوگا کیونکہ ہر مذہب مفتی بہ میں یہ نکاح ہی درست ہی نہیں،غیر کفو سے نکاح میں ولی کی اجازت شرط ہے۔(مرقات)
۲؎ یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے بہت سی کتب میں منقول ہے اسے ترمذی نے حسن صحیح فرمایا۔(مرقات)