روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رفاعہ قرظی ۱؎ کی بیوی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی ا ور انہوں نے مجھے طلاق دی تو طلاق منقطع کردی ۲؎ پھر ان کے بعد میں نے عبدالرحمان ابن زبیر سے نکاح کرلیا ان کے پاس نہیں ہے مگر کپڑے کے پلو(گوشہ)کے تو فرمایا ۳؎ کہ کیا تم رفاعہ کی طرف لوٹنا چاہتی ہو بولیں ہاں ۴؎ فرمایا نہیں تاآنکہ تم ان کی لذت چکھ لو اور وہ تمہاری لذت چکھ لیں ۵؎ (مسلم،بخاری)۶؎
۱؎ آپ کا نام رفاعہ ابن سموال ہے،قرظی ہیں،یعنی یہود کے قبیلہ بنی قریظہ سے ہیں،بی بی صفیہ زوجہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ماموں ہیں۔(اکمال)
۲؎ اس طرح کہ مجھے تین طلاقیں دے دیں جس کی وجہ سے نکاح بالکل ہی ختم ہوگیا۔
۳؎ یعنی عبد الرحمن کے اعضاء تناسل تو درست ہیں مگر ضعف کی وجہ سے وہ قابل صحبت نہیں کہ وہ نامرد ہیں۔خیال رہے کہ خصی وہ جس کے خصیہ نہ ہوں، مجبوب جس کا آلہ تناسل کٹا ہوا ہو اور عنین وہ جس کے یہ تینوں اعضاء ہوں مگر آلہ میں سختی نہ ہو جس سے وہ صحبت کے قابل نہ ہو،یہاں تیری صورت تھی جسے اس بی بی نے اس طرح بیان کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ مسئلہ پوچھنے یا داد خواہی کرنے کے لیے عالم یا حاکم کے سامنے صاف صاف بات کہی جاسکتی ہے نہ اسے بے حیائی کہا جاوے گا نہ غیبت اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بیان پر ملامت نہ فرمائی۔
۴؎ یہ بی بی سمجھی کہ حلالہ کے لیے صرف دوسرے مرد سے نکاح کافی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗ"میرا دوسرا نکاح تو ہوچکا،شاید میں یہاں سے طلاق لے کر رفاعہ کے لیے حلال ہوجاؤں گی۔
۵؎ عسیلہ عسل کی تصغیر ہے،عسل شہد کو کہتے ہیں پھر ہر لذت کو کہنے لگے۔ مقصد یہ ہے کہ تمہارے بیان کے مطابق عبدالرحمان تم سے صحبت نہ کرسکے اور حلالہ میں دوسرے خاوند کا صحبت کرنا شرط ہے لہذا تم ابھی رفاعہ کے لیے حلال نہیں ہوئیں،بعض علماء نے قرآن کی آیت سے بھی صحبت کا شرط ہونا ثابت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ تنکح کے معنی ہیں تجامع لہذا آیت کے معنے یہ ہیں کہ تین طلاق والی عورت پہلے خاوند کو حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے صحبت کرے مگر حق یہ ہے آیت میں تنکح بمعنی نکاح ہے صحبت کا شرط ہونا اس حدیث سے ثابت ہے عسیلہ تصغیر فرما کر یہ بتایا کہ پوری صحبت کرنا شرط نہیں انزال ضروری نہیں صرف حشفہ غائب ہونا کافی ہے جس سے غسل فرض ہوجاتا ہے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نابالغ بچہ سے صحبت حلالہ کے لیے کافی نہیں ہاں مراہق یعنی قریب بلوغ کی صحبت کافی ہے۔دوسرے یہ کہ بہت چھوٹی بچی کو اگر تین طلاقیں دی گئیں تو اس کا نکاح ثانی اور صحبت حلالہ کے لیے کافی نہیں کہ پہلی صورت میں خاوند لذت نہیں چکھتا دوسری صورت میں عورت،تیسرے یہ کہ لونڈی سے مولیٰ کی صحبت حلالہ کے لیے کافی نہیں کہ مولیٰ خاوند نہیں۔چوتھے یہ کہ مجنونہ یا بے ہوش یا سوتی ہوئی عورت سے صحبت حلالہ کے لیے کافی ہے کہ یہ صحبت لذت کے لائق تھی اگرچہ عورت نے ان عوارض کی وجہ سے چکھی نہیں یہ ہی عام علماء کا مذہب ہے۔پانچویں یہ کہ وطی بالشبہ،زنا،ملک عین کی صحبت سے حلالہ درست نہیں،یہ صحبت وغیرہ کی قیود اس لیے ہیں کہ لوگ تین طلاقوں پر دلیری نہ کریں کیونکہ دوسرا خاوند صحبت کے بعد طلاق مشکل سے ہی دے گا۔(مرقات وغیرہ)
۶؎ بخاری کی ایک روایت میں یہ ہے کہ عبدالرحمن نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ جھوٹی ہے اسے چمڑے کی طرح چھیلتا ہوں تو فرمایا کہ اگر یہ سچی بھی ہو تب بھی اپنے قول سے رفاعہ کو حلال نہیں۔