۱؎ یعنی غلام کو آزاد کرنا مستحب ہے مگر دیگر مستحبات سے افضل و اعلیٰ ہے کیونکہ اس سے ایک جان کو غلامی سے نجات دینا ہے اسے جانوروں کی حد سے نکال کر انسانی حدود میں داخل کرنا ہے۔
۲؎ یعنی بلا ضرورت طلاق دینا اگرچہ جائز ہے مگر رب تعالٰی کو ناپسند ہے ورنہ کبھی طلاق دینا مستحب یا واجب بھی ہوتی ہے،چنانچہ فاسِقہ فاجرہ رب کی ناشکری بیوی کو طلاق دے دینا بہتر ہے،حضرت ابوحفص بخاری فرماتے ہیں کہ کل قیامت میں اگر میں رب تعالٰی سے اس حال میں ملوں کہ میری مطلقہ بیوی کا مہر میرے گلے میں لٹکا ہو اس سے بہتر ہے کہ بے نمازی بیوی میرے نکاح میں رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح کرنا دوسرے دنیاوی کاروبار بلکہ نوافل عبادت سے افضل ہے یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔(مرقات)لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اگر طلاق رب تعالٰی کو بہت ہی ناپسند ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی بیوی کو طلاق کیوں دلوائی تھی ؟ یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی سودہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیوں فرمایا،یا امام حسن رضی اللہ عنہ نے بہت نکاح کیوں کیے اور بہت طلاقیں کیوں دیں کیونکہ طلاق رب تعالٰی کو ناپسند بھی ہے اور پسند بھی۔