| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلم اٹھالیا گیا ہے تین شخصوں سے ۱؎ سوتا ہوا حتی کہ جاگ جائے اور بچے سے حتی کہ بالغ ہوجائے اور دیوانہ سے یہاں تک کہ عقل والا ہوجائے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)دارمی،حضرت عائشہ سے اور ابن ماجہ ان دونوں سے۔
شرح
۱؎ یعنی ان پر سزا و جزا نہیں ہوتی۔ ۲؎ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نابالغ بچہ سوتا ہوا آدمی اور دیوانہ مرفوع القلم ہیں ان پر شرعی احکام جاری نہیں لہذا اگر یہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں تو واقع نہ ہوگی۔ اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ بچہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی یوں ہی سوتے میں اگر کوئی طلاق دے دے یا دیوانگی میں تو بھی طلاق نہیں ہوتی،یہ حدیث جامع صغیر،احمد،ابوداؤد،نسائی حاکم نے مختلف صحابہ سے مختلف الفاظ میں نقل فرمائی،بخاری نے تعلیقًا موقوفًا حضرت علی سے روایت کی غرضکہ حدیث صحیح ہے۔(مرقات)