Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
207 - 1040
حدیث نمبر 207
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لونڈی کی طلاقیں دو ہیں اور اسکی عدت دو حیض ۱؎(ترمذی،ابوداؤد اور ابن ماجہ دارمی)
شرح
۱؎ یعنی لونڈی خواہ غلام کے نکاح میں ہو یا آزاد کے اس پر صرف دو طلاقیں پڑ سکتی ہیں،دو سے ہی مغلظہ ہوجائے گی کہ پھر بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکے گی،نیز لونڈی کی عدت بجائے تین حیض کے دو حیض ہیں۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ طلاق کی عدت حیض ہے نہ طہر یہ ہی احناف کہتے ہیں اور قرآن کریم میں جو ثلاثۃ قروء فرمایا گیا وہاں قروء کے معنی طہر نہیں بلکہ حیض ہیں۔دوسرے یہ کہ عدت و طلاق کا اعتبار عورت سے ہے نہ کہ مرد سے لہذا لونڈی کی طلاقیں بھی دو ہیں اور عدت بھی دو حیض، اس کا خاوند غلام ہو یا آزاد یہ ہی احناف کا قول ہے،امام شافعی و مالک اور احمد کے ہاں طلاق کا اعتبار مرد سے ہے۔خیال رہے کہ اگر لونڈی مہینہ سے عدت گزارے تو ڈیڑھ مہینہ عدت طلاق ہوگی،کیونکہ آزاد عورت کی عدت کے مہینہ تین ہیں اور لونڈی کے نصف چونکہ تین حیض کی تنصیف نہیں ہوسکتی لہذا اس کی عدت دو حیض ہوئے،بعض شوافع اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں،ان کا قول ہے کہ اس کی اسناد میں مظاہرہے ان سے سواء اس حدیث کے کوئی حدیث منقول نہیں مگر یہ غلط ہے حضرت مظاہر اہل بصرہ کے مشائخ میں سے ہیں،متقدمین محدثین میں سے کسی نے ان پر جرح نہ کی،نیز اس حدیث پر عام علماء کا عمل رہا عمل علماء ضعیف حدیث کو بھی قوی کردیتا ہے۔امام مالک فرماتے ہیں کہ کسی حدیث کا مدینہ منورہ میں مشہور ہوجانا اسے صحیح کردیتا ہے۔(مرقات)یہاں اس حدیث کے متعلق مرقات نے بڑی نفیس گفتگو فرمائی ہے،بہرحال طلاق و عدت میں عورت کا لحاظ ہے نہ کہ مرد کا۔
Flag Counter