۱؎ غالبًا مغلوب العقل معتوہ کی تفسیر ہے اور یہ عطف تفسیری ہے ہوسکتا ہے کہ معتوہ وہ جس کی عقل میں فتور ہو اور مغلوب العقل بالکل دیوانہ حضرت علی امام مالک،امام شافعی،امام اوزاعی،سفیان ثوری امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ نشہ والے کی طلاق واقعی ہوجاوے گی اگرچہ وہ بے عقل ہوچکا ہو جب کہ اس نے گناہ کے طور پر نشہ کیا اسی لیے اسپر نمازیں معاف نہیں ہوتیں۔بچے،دیوانہ،سوتے ہوئے بے ہوش کی طلاق نہیں ہوتی۔
۲؎ اس حدیث کی تائید میں بہت زیادہ احادیث بخاری ابن ابی شیبہ وغیرہ میں آئی ہیں اگر تفصیل دیکھنا ہو تو یہاں مرقات کا مطالعہ کیجئے،لہذا اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہو مگر دوسری احادیث کی تائید سے قوی ہے۔