۱؎ یعنی اگر جبرًا کسی سے اس کی بیوی کو طلاق دلوادی گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی یہ ہی مذہب ہے امام شافعی و احمد کا ،ہمارے امام اعظم کے ہاں مجبور کی طلاق ہوجاتی ہے،ان کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام محمد نے حضرت صفوان ابن عمر طائی سے روایت کی کہ مدینہ پاک میں ایک عورت اپنے خاوند سے سخت نفرت کرتی تھی ایک دن دوپہر کو خاوند سورہا تھا،یہ چھری لے کر سر پر کھڑی ہوگئی اور بولی مجھے تین طلاقیں دو ورنہ ابھی ذبح کردوں گی وہ بہت چیخا چلایا آخر کار تین طلاقیں دے دیں، پھر یہ مسئلہ بارگاہ رسالت میں پیش ہوا تو حضور نے فرمایا"لَا قَیْلُوْلَۃَ فِی الطَّلَاقِ"امام شمنی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث امام عقیل نے بھی اپنی کتاب میں نقل کی۔اس سے معلوم ہوا کہ مجبور کی طلاق ہوجاتی ہے رہی وہ حدیث کہ"رفع عن امتی الخطاء والنسیان و ما استکرھوا علیہ"یعنی میری امت سے خطاء بھول اور مجبوری کی چیزیں اٹھائی گئی وہاں اخری گناہ مراد ہے کہ ان چیزوں پر آخرت میں گناہ نہ ہوگا دنیاوی احکام جاری ہونا مراد نہیں،اگر کوئی کسی کو جبرًا قتل کردے تو اسے قاتل مانا جاوے گا۔یہاں اغلاق کے معنی امام صاحب کے نزدیک سخت غصہ ہے جس سے انسان کی عقل بند ہوجائے کہ ایسے مخبوط الحواس غصہ والے کی طلاق نہیں ہوتی لہذا یہ حدیث امام صاحب کے خلاف نہیں۔(مرقات ولمعات وغیرہ)
۲؎ یعنی بعض شارحین نے فرمایا کہ اغلاق کے معنی ہیں جبر،بعض نے فرمایا اس کے معنی ہیں سخت غصہ جس سے عقل جاتی رہے،بعض نے فرمایا دیوانگی۔خیال رہے کہ امام شعبی،نخعی سفیان ثوری کا یہ ہی مذہب ہے کہ مجبور کی طلاق ہوجاتی ہے۔امام مالک فرماتے ہیں کہ ناحق جبر کی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر ضرورۃً مجبور کرکے طلاق لے لی جائے تو واقع ہوجائے گی جیسے ظالم خاوند جو عورت کو نہ درست طریقہ سے بسائے نہ طلاق دے،یہ ہی قول ہے حضرت علی،عبداﷲ ابن عمر،شریح،عمر بن عبدالعزیز کا۔(مرقات)ہمارے ہاں بھی مجبور کی زبانی طلاق ہوگی اگر مجبور نے صرف تحریری طلاق دی تو واقع نہ ہوگی۔(عالمگیری)خیال رہے کہ دس چیزیں مجبوری میں جائز ہوتی ہیں نکاح،طلاق،رجوع،ایلاء فی،ظہار،عتاق،یعنی غلام آزاد کرنا،قصاص سے معافی،قسم،نذر۔شعر
یصح مع الاکراہ عتق و رجعۃ نکاح و ایلاء طلاق مفارق
و فی ظہار و الیمین و نذرہ وعفو لقتل شاب عنہ مفارق
گیارہواں اسلام یعنی مجبور کا اسلام درست ہے۔(مرقات و کتب فقہ)